پاکستان

معلومات کو روکا جائے، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

دسمبر 2, 2021

معلومات کو روکا جائے، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

سپریم کورٹ کے ملازمین کی بھرتیوں کی معلومات شہری کو فراہم کرنے کی درخواست پر انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی معلومات فراہمی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ کی درخواست ہائیکورٹ سن سکتی ہے؟

درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے طلب کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سامنے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان پیش ہوئے اور بتایا کہ
12 جولائی 2021 کو انفارمیشن کمیشن نے معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا، انفارمیشن کمیشن نے درخواست منظور کرتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو انفارمیشن دینے کا حکم دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کل انفارمیشن کمیشن نے یہ فیصلہ کس قانون کے تحت دیا؟

عامر رحمان نے بتایا کہ انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سارا معاملہ فرسٹ امپریشن کا ہے، پہلے دیکھنا ہے درخواست قابل سماعت بھی ہے یا نہیں، کیا رجسٹرار سپریم کورٹ براہ راست اس ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف رٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ کہاں چیلنج کیا جا سکے گا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ سپریم کورٹ آئینی عدالت ہے یہ فیڈرل لاء کے تحت نہیں آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر پاکستان انفارمیشن کمیشن سپریم کورٹ کے خلاف ایسا حکم جاری نہیں کر سکتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق پاکستان انفارمیشن کمیشن نے کہا کہ ان کے پاس اپنے فیصلے ہر نظرثانی کا اختیار بھی نہیں، اس لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے شہری کی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھرتیوں اور ملازمین کی معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے