پاک افغان سرحد پر باڑ اکھاڑنے پر پاکستانی اور افغان وزرا کا مؤقف مختلف کیوں؟
طالبان کے ترجمان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے خلاف سخت بیان آیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے خاردار باڑ اکھاڑنے کے معاملے پر خاموش نہیں ہیں بلکہ سفارتی سطح پر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ ہیں۔ کچھ شرپسند عناصر اس معاملے کو ہوا دینا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے۔ ہم سفارتی سطح پر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے مفادات کا تحفط کریں گے۔‘
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور افغان وزارت دفاع کے ترجمان دو مختلف مواقع پر انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن مستقل سرحد نہیں اور باڑ لگانے سے قوم تقسیم ہوتی ہے اس لیے یہ متنازع معاملہ اور حل طلب ایشو ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاک افغان سرحد پر طالبان ننگجوؤں کی جانب سے باڑ اکھاڑنے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔
تقریباً دو ہفتے قبل پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر خاردار باڑ اکھاڑنے کا پہلا واقعہ 19 دسمبر کو پیش آیا تھا جن طالبان جنگجوؤں نے پاکستانی فوج کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ساتھ سرحدی باڑ لگانے سے روک دیا تھا۔

