کالم

ویت نام کی برآمدات اور پاکستان

مارچ 3, 2022

ویت نام کی برآمدات اور پاکستان

جب 1995 میں ویت نام کی برامدات نے پہلی مرتبہ 5 ارب ڈالرز کا سنگ میل عبور کیا تو اس برس پاکستان کی برآمدات 11 ارب ڈالرز کے قریب تھیں، یعنی ویت نام سے دو گنا زیادہ ۔

پچھلے برس یعنی 2021 میں پاکستان کی برامدات لگ بھگ 26 ارب ڈالرز رہیں۔ ویت نام کی اس سال کل برآمدات 336 ارب ڈالرز تھیں۔ پاکستان سے تیرہ گنا زیادہ۔

ویت نام کی کہانی جاننا ہمارے لیے یوں بھی ضروری ہے کہ جن جنگوں، مصائب اور تکالیف کا ویت نامیوں نے سامنا کیا۔ ہم پاکستانیوں نے اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیکھا۔ خدا محفوظ ہی رکھے، ہم آزمائش کے قابل بھی نہیں ہیں۔

اور اس لئے بھی کہ اس سب کے باوجود ویت نام نے ایسا کیا کیا، جو ہم کرنے سے قاصر رہے اور جسے ہم اپنا سکتے ہیں؟

ہوچی منہ کی قیادت میں ویت نام نے 1945 سے 1954 تک نو برس جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی۔ مگر فرانس اور امریکا نے ملی بھگت سے ویت نام کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔

امریکا نے جنوبی ویت نام کی حمایت کے نام پر 1965 میں شمالی ویت نام سے جنگ چھیڑ دی۔ 1973 تک جاری رہنے والی اس جنگ سے آپ سب بخوبی واقف ہیں۔ تقریباً چودہ لاکھ ویت نامی اس جنگ میں ہلاک ہوئے۔ معیشت تباہ ہو گئی۔ امریکیوں نے ویت نامیوں کو خوراک سے محروم کرنے کیلئے ان کے کھیتوں پر ایسے زہریلے کیمیکلز کا سپرے کیا تھا جن کے اثرات کئی برس زائل نہ ہو پائے۔ مگر امریکا کے نکل جانے کے بعد بھی ویت نام کو دوبارہ متحد ہونے کیلئے تین سال کی خانہ جنگی برداشت کرنا پڑی ۔

جب 1976 میں خدا خدا کر کے ویت نام متحد ہوا تو ان کی اپنے پڑوسی کمبوڈیا سے جنگ چھڑ گئی۔ اس بار چین کمبوڈیا کے ساتھ کھڑا تھا۔ تو یوں ایک نئی جنگ ویت نام پر مسلط ہوئی جو 1989 تک جاری رہی۔

اس دوران البتہ یوں ہوا کہ جس وقت جدید چین کے معمار ڈینگ ژیاؤ پنگ چین میں معاشی اصلاحات نافذ کر رہے تھے؛ اسی وقت 1986 میں ویت نام کی قیادت بھی اولڈ گارڈز کے ہاتھ سے نکل کر اصلاح پسندوں کے ہاتھ آ گئی۔

انہوں نے اگلے پانچ برس میں زرعی اصلاحات کیں، فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے کچھ سخت فیصلے کئے۔ روس کے تعاون سے بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعلیم و صحت کی فراہمی شروع کی۔ اصلاحات کا یہ سلسلہ ڈوئی موئی کہلاتا ہے یعنی تعمیر نو۔ تعمیر نو ماڈل چین سے متاثر تھا۔ پانچ سالہ منصوبے، سنگل پارٹی سسٹم، نجی ملکیت کی اجازت، کاٹیج انڈسٹریز کو فروغ وغیرہ۔

لیکن 1990 تک صورتحال یوں تھی کہ مسلسل 25 سال لڑائیوں اور خانہ جنگی کے بعد بمشکل پچھلے برس امن قائم ہوا تھا۔ امریکا نے 1970 سے جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، وہ برقرار تھیں۔ اور ان کے نتیجے میں امریکی اور یورپی منڈیوں تک ویت نام کی رسائی محدود تھی۔ کھیمروج گوریلوں کی حمایت میں چین اور اس کے پاکستان، شمالی کوریا جیسے دوستوں نے بھی ویت نام سے تعلقات منقطع کر رکھے تھے۔ صرف سویت یونین ویت نام کے ساتھ کھڑا تھا مگر اس کی اپنی ٹانگیں لرز رہی تھیں۔

یہاں سے ویت نامی قیادت کو یہ احساس ہوا کہ عالمی معاشی نظام میں اپنی جگہ بنانے کیلئے انہیں عالمی معاشی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے۔ مسلسل کوششوں کے بعد 1993 میں امریکا نے ان پر سے تجارتی پابندیاں ختم کیں۔ جس کا نتیجہ 1995 میں 5 ارب ڈالرز کی برآمدات کی صورت میں نکلا۔

مگر 1997 میں ویت نام مشرق بعید میں آنے والے معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ جو دو سال جاری رہا۔

اس کے باوجود 2000 میں ویت نام کی برامدات 14 ارب ڈالرز سے زیادہ تھیں، جبکہ پاکستان کی برآمدات سکڑ کر 9.7 ارب ڈالرز رہ گئی تھیں۔

بیسویں صدی کے آخری عشرے یعنی 90 تا 99 میں ویت نام کی ترقی کی اوسط 8.2 فیصد رہی۔اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں 6.64 فیصد اور دوسرے عشرے میں 6.28 فیصد۔

پچیس سال کی جنگ کے بعد امن کے پچیس سال میں ویت نام کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اور ہم وہیں کے وہیں کھڑے رہے۔

بہانے بہت ہیں ہمارے پاس، افغان جنگ، دہشتگردی، مارشل لاء وغیرہ وغیرہ۔ مگر حقیقی وجوہات بہت ٹھوس اور سمجھ آنے والی ہیں۔

مضمون لمبا ہو گیا اس لئے ان میں سے صرف ایک وجہ دیکھ لیجئے۔

ویت نام کے اس وقت دنیا کے 45 ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس ہیں۔

پاکستان کے 3 ملکوں کے ساتھ۔

ہمارے صنعتکار اور سرمایہ کار اقتدار میں شریک ہو کر یا حکمرانوں پر اثرانداز ہو کر ایسی پالیسیاں تشکیل دلواتے ہیں، جن کے نتیجے میں ان کی ہر حال میں پانچوں گھی میں ہوتی ہیں۔ یہ سب رینٹ سیکنگ rent seeking کے عادی ہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال ٹیکسٹائل سیکٹر ہے جس پر میں غالباً پہلے لکھ چکا۔ رئیل اسٹیٹ، آٹو، فارما، شوگر ہر انڈسٹری کا یہی حال ہے۔

چونکہ یہ مسابقت کے قابل نہیں ہیں اس لئے مسابقت سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے بڑی محنت اور سرمایہ کاری سے پاکستان میں یہ تاثر تشکیل دے رکھا ہے جو یقیناً اس مضمون پر تبصروں میں بھی پڑھنے کو ملے گا کہ چونکہ ہماری انڈسٹریل بیس کمزور ہے تو فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے ہمیں نقصان ہوگا۔

"او جی، ہم فلاں اور ڈھمکاں کی منڈی بن کر رہ جائیں گے”

یہ جملہ میں ہزاروں بار پڑھ اور سن چکا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے ہاں انڈسٹری اور بیرونی سرمایہ کاری آتی ہی تب ہے جب آپ کسی کی منڈی بنتے ہیں۔

چین نے کیا فی سبیل اللہ ہم پر 35 ارب ڈالر انویسٹ کئے؟

درآمدات اور سمگلنگ ملا کر ہم ہر سال چین سے 20 سے 22 ارب ڈالرز کی مصنوعات خریدتے ہیں۔ اس لئے چین ہم پر مہربان ہے اور اس لئے چینی صنعتکار یہاں اپنی فیکٹریاں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

سامسنگ کے ٹی وی اور موبائلز کی پاکستان میں کروڑوں ڈالر کی فروخت نہ ہوتی تو سام سنگ پاکستان میں اسمبلنگ پلانٹس کیوں لگاتا؟

فری ٹریڈ ایگریمنٹس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے، کوئی ملک آپ کی منڈی بنتا ہے، کسی کی آپ بنتے ہیں۔ بالآخر دونوں فریق فائدے میں رہ جاتے ہیں۔

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ہم 2005 سے ترکی کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیلئے مذاکرات کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کے ساتھ 2012 سے۔ دنیا بدل گئی ہمارے مذاکرات ابھی جاری ہیں۔

بھارت سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو ہم نے کشمیر سے نتھی کر رکھا جس کا کشمیریوں کو تو ایک ٹکے کا فائدہ نہیں البتہ ہمیں اربوں ڈالرز سالانہ کا نقصان ہے۔

پچھلے برس یو اے ای سے ہم نے ساڑھے چھ ارب ڈالرز کی درآمدات کی ہیں۔ ان میں پٹرولیم مصنوعات کو نکال کر باقی آدھے سے زیادہ مال وہ ہے، جو پہلے بھارت سے یو اے ای برآمد ہوتا۔ وہاں اس پر ٹیکس، ڈیوٹیاں لگتے، پھر مڈل مین اپنا پرافٹ رکھ کر پاکستان بھیجتے، یہاں اس پر دوبارہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز لگ کر یہ ہم پاکستانی صارفین کو میسر ہوتا ہے۔

لیکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ کر کے براستہ واہگہ بارڈر ایک تہائی کم قیمت پر وہی آئٹم خریدنے سے ہماری قومی غیرت مجروح ہوتی ہے۔

ویت نام کے آج بھی چین، کمبوڈیا، جاپان اور اب روس سے بھی کئی اختلافات ہیں۔ لیکن ویت نام کے ان سب ممالک سے فری ٹریڈ ایگریمنٹس ہیں۔ ان کا ٹارگٹ 2025 تک 70 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرنا ہے۔

ہم تب بھی ترکی اور بنگلہ دیش سے مذاکرات میں مصروف ہوں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے