شیخ رشید تحریک انصاف اور فوج میں غلط فہمیوں کے خاتمے کے خواہش مند
سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو فوج کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کر لینی چاہئیں۔
بدھ کو پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج پر سوشل میڈیا اور مظاہروں میں کی جانے والی تنقید کے حوالے سے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گالیاں دینے والے فوج کے ساتھ صلح کرسکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ ’پاکستان اس خطے کے ایسے اہم علاقے میں ہے جہاں عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کے لیے قابل قبول نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا چاہیے۔
ن لیگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گالیاں دینے والے فوج کے ساتھ صلح کرسکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ ’جنہوں نے لندن اور گوجرانوالا سے فوج کو گالیاں دیں اگر وہ اپنے مطلب کے لیے جوتے پالش کرسکتے ہیں اور شہباز شریف چیری بلاسم بن سکتا ہے تو ہمیں بھی غلط فہمیاں دور کرکے ان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لوگ اس گینگ آف فور کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تو ان کے فیصلوں کے ساتھ کیسے کھڑے ہوں گے؟ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ انہوں نے میرے دفاتر سے اتوار کو فائلیں اٹھائی ہیں۔‘
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ’یہ لوگ یقیناً عمران خان کو مروا بھی سکتے ہیں، عالمی طاقتیں عمران خان کی جان لے سکتی ہیں، جیل میں ڈالنا تو معمولی بات ہے۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ ’عید کے بعد 15 جون کی تاریخ دیتا ہوں، عمران خان کال دے گا، اسلام آباد کی کال دینے سے پہلے اس کی جان کو بھی خطرہ ہے اور اس کو جیل میں بھی ڈال سکتے ہیں، لیکن جیلوں سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا، 29 جون تک کی تاریخ دے چکا ہوں۔‘

