لاہور میں فوج کے میجر پر تشدد، ن لیگی رہنما سلمان رفیق اور حافظ نعمان گرفتار
لاہور میں پولیس نے فوج کے میجر حارث پر تشدد کا مقدمہ درج کر کے چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں ن لیگ کے دو رہنما خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان شامل ہیں.
کیولری گراؤنڈ کے قریب ٹریفک حادثے کے بعد جھگڑے کا مقدمہ تھانہ گارڈن ٹاؤن میں میجر حارث کے والد چوہدری راشد محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مدعی نے بیٹے کے زخمی ہونے کا بیان دیا جبکہ سوشل میڈیا پر بازو ٹوٹنے کی خبر ایک اینکر نے شیئر کی.
قبل ازیں اے آر وائے نیوز کے اینکر ارشد شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی فوج کے میجر حارث کو ن لیگ کے رہنما کے گارڈز نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کا بازو ٹوٹ گیا۔
انہوں نے لکھا کہ میرا یہ بھائی سیاچین پر ملک کا دفاع کر چکا ہے۔
ارشد شریف کے مطابق سلمان رفیق، حافظ نعمان اگلی گاڑی میں تھے جب ان کے گارڈز نے میجر حارث کو مارا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ٹرولز اور ان کے حامی ٹی وی چینل پر ایک حساس ادارے کے افسر پر میری موجودگی میں میرے گارڈز کے ھاتھوں تشددکے حوالہ سے پھیلایا جانے والا مواد بے بنیاد، جھوٹ اور لغو ہے۔
انہوں نے کہا کہ ” واضح رہے کہ میں بغیر گارڈز کے سفر کرتا ہوں۔ میراایسے کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ “

