مرضی سے شادی کی، لاپتہ دعا زہرہ کا ویڈیو بیان منظرعام پر
کراچی سے 10 روز قبل لاپتہ ہونے والی 14 سالہ لڑکی دعا زہرہ کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ مرضی سے شادی کی، کسی نے اغوا نہیں کیا.
منگل کی صبح یہ ویڈیو نجی چینلز پر نشر کی گئی جس میں سیاہ چادر کا سکارف لیے دعا زہرہ کہہ رہی ہیں کہ وہ بالغ ہیں اور ان کے والدین مرضی کے خلاف شادی کرانا چاہ رہے تھے اس لیے گھر چھوڑا.
قبل ازیں دعا زہرہ کے لاہور پولیس کو مل جانے کی خبریں پیر کی سہ پہر جنگل کی آگ کی طرح پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پھیلیں جن کی دو گھنٹے بعد پولیس نے تردید کی۔
لاہور پولیس نےکراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ کو ٹریس کر لیا.
لاہور پولیس کی ٹیم کی حفاظت میں دونوں کو اوکاڑہ سے لاہور لایا جا رہا ہے.
لاہور پولیس کی اسپیشل ٹیمیں رات بھر لڑکی کی تلاش میں آپریشن کرتی رہیں۔ #Lahore #BreakingNews #duazahra #DuaZehraKazmi @InvPoliceLahore pic.twitter.com/a8pP8SrR7r— Capital City Police Lahore Official (@CcpoLahore) April 26, 2022
پاکستان کے تقریباً تمام ٹی وی چینلز نے دعا زہرہ کے لاہور میں بازیاب ہونے اور نکاح کی خبر نشر کی۔
جب دعا زہرہ کے والد سے نجی چینل جیو نیوز نے اس حوالے تو پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ کے چینل نے خبر نشر کی اور ہمیں اسی سے علم ہوا۔“
کراچی پولیس نے سب سے پہلے میڈیا کو خبر دی کہ لاپتہ دعا زہرہ لاہور پولیس کو مل گئی اور سندھ کے وزیراعلیٰ نے بھی اس کی تصدیق کی۔
اس خبر کے بعد جب لاہور پولیس سے میڈیا نے رابطہ کیا تو وہاں سے لاپتہ لڑکی کے بازیاب کیے جانے کی تردید کی گئی۔
اس دوران دعا زہرہ کے نکاح نامے کی ایک کاپی بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنی تاہم اس کی بھی تصدیق نہ ہو سکی۔
پاکستان 24 نے اس تمام صورتحال میں یہ پتا لگانے کی کوشش کی کہ فیک نیوز کیسے پھیلی تو معلوم ہوا کہ لاہور پولیس نے پنجاب میں کراچی سے لاپتہ ایک اور لڑکی نمرہ کاظمی کے بازیاب کیے جانے کی تصدیق کی تھی جس کو کراچی میں دعا زہرہ کے ملنے کی خبر کے طور پر لیا گیا۔
خیال رہے کہ کراچی ہی سے لاپتہ ہونے والی نمرہ کاظمی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں بازیاب کی گئیں جنہوں نے مرضی سے نکاح کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

