خودکش حملہ آور شاری بلوچ کے بارے میں تحقیقات کہاں پہنچیں؟
کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے چینی باشندوں کی گاڑی پر خودکش حملہ کرنے والی خاتون شاری بلوچ کے والد کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔
جمعرات کی صبح اس کارروائی میں سی ڈی ٹی کے اہلکاروں نے گھر سے لیپ ٹاپ اور فون قبضے میں لیے۔
قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان نے بدھ کو کراچی کا دورہ کیا تھا جس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں سندھ حکومت کی ٹیم نے ان کو جامعہ کراچی خود کش حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو بتایا گیا تھا کہ جامعہ کراچی میں خودکش دھماکے کی تحقیقات پولیس کی دو ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
’کراچی پولیس اور انسداد دہشت گردی ونگ کی ٹیمیں خودکش حملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کو بتایا گیا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں کچھ مزید گاڑیاں مشکوک نظر آرہی ہیں۔
خودکش بمبار خاتون کے حوالے سے بتایا گیا کہ شاری بلوچ شادی شدہ خاتون اور دو بچوں کی ماں تھی، ان کا تعلق تربت سے تھا۔
بریفنگ کے مطابق خودکش حملے سے قبل خاتون گلستان جوہر میں رہائش پذیر تھیں اور 20 مارچ کو بلوچستان سے کراچی پہنچی تھیں۔
بعد ازاں وزیراعلٰی سندھ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’وفاقی حکومت سکیورٹی سے متعلق سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔‘
ان کے مطابق ’نیکٹا چار سال سے غیر فعال رہا ہے اور جلد وزیراعظم چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد نیکٹا پر بریفنگ لیں گے اور اسے جلد فعال کیا جائے گا۔‘

