پاکستان

قیادت کو ہراساں کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کی عدالت میں دُہائی

مئی 2, 2022

قیادت کو ہراساں کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کی عدالت میں دُہائی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو مسجد نبوی واقعے پر مقدمات کے اندراج کے بعد سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

پیر کو توہین مذہب کے مقدمات میں پی ٹی آئی کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیگر شہروں کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں بھی ایف آئی آرز کے اندراج کی دہائی دی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دلایا کہ اسی شہر میں پی ٹی ایم اور بلوچ طلبہ پر بھی مقدمات درج کیے جاتے رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کی جانب سے حفاظتی ضمانت کی درخواست بھی دائر جی گئی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ حفاظتی ضمانت منظور کر کے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا موقع دیا جائے۔

درخواست گزار نے کہا کہ وہ اپنے خلاف درج مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کی گئی۔

عدالت کے پوچھنے پر وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ شہباز گل امریکہ میں ہیں چار مئی کو واپسی ہے ایئرپورٹ پر گرفتاری سے روکا جائے۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے بتایا کہ فیصل آباد، اٹک، جہلم، بوریوالہ، کراچی، جھنگ، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں مقدمات درج کیے گئے، سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق شہباز گل سمیت دیگر کے خلاف گیارہ مختلف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

عدالت نے حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شہباز گل کی گرفتاری سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا فواد چودھری تاحال ممبر قومی اسمبلی ہیں؟ سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر تو گرفتاری نہیں ہو سکتی۔

وکیل نے بتایا کہ فواد چودھری رکن قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو چکے ہیں مگر انہیں ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے بیان دیا ہے کہ شیخ رشید سمیت ان کے ساتھیوں کا گھروں سے نکلنا مشکل کر سکتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک کوئی ڈی نوٹیفائی نہ ہو، سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری نہیں ہو سکتی۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے وزیر داخلہ کی نیوز کانفرنس اور مریم نواز کے بیانات بھی پڑھ کر سنائے۔

ان کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ عمران خان ایک فتنہ ہے جسے crush کرنا چاہیے۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سات رکنی بینچ کا فیصلہ ہے کہ ایک واقعے کی ایک سے زائد ایف آئی آر درج نہیں کرائی جا سکتی، واقعہ مدینہ منورہ میں ہوا اور یہاں مقدمات درج کر لیے گئے۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام مقدمات کی فہرست عدالت کے سامنے رکھی جائے، اسلام آباد کے دو تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس عدالت کے دائرہ اختیار تک پولیس کو ہدایات جاری کر دیتے ہیں، یہاں پر پی ٹی ایم اور بلوچ سٹوڈنٹس پر بھی مقدمات درج ہوتے رہے ہیں۔

عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 مئی تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے