پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش ویڈیوز شیئر کرنے والوں کی گرفتاری کا فیصلہ
پاکستان میں حکومت نے سوشل میڈیا پر فحش اور غیراخلاقی ویڈیوز سے لوگوں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعے کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ایسے مواد کو برداشت نہ کیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کرنی ہے جس میں ایسے مواد کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ غیراخلاقی ویڈیوز، تصاویر سمیت اس نوع کا گند پھیلانے والوں کا صفایا کریں گے۔‘
اس حوالے سے وزارت داخلہ نے ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں تحریک انصاف کے دورے حکومت میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے سوشل میڈیا رولز 2021 جاری کیے تھے جن کے مطابق انتہا پسندی، دہشت گردی، نفرت انگیزی، غیر اخلاقی اور پرتشدد مواد کی لائیو سٹریمنگ پر پابندی ہوگی۔
سابق وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے ترمیم شدہ رولز پر میڈیا کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ غیر اخلاقی مواد کی تشہیر بھی قابل گرفت جرم ہوگا، اور سوشل میڈیا ادارے پاکستان کے وقار اور سلامتی کے خلاف مواد ہٹانے کے پابند ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا تھا کہ ’دوسروں کی نجی زندگی سے متعلق مواد پر بھی پابندی ہوگی اور کسی بھی شخص سے متعلق منفی مواد اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔‘

