منحرف ارکان کو ان کے حلقوں میں سبق سکھائیں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ 20 مئی کے بعد عوام کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دیں گے۔
اپنے آبائی حلقے میانوالی میں جمعے کو جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ لوٹے کسی بھی حلقے میں ووٹ مانگنے آئیں تو آپ نے ان کا بندوبست کرنا ہے۔‘
’آپ نے انہیں وہ سبق سکھانا ہے کہ لوگ ساری زندگی ضمیر بیچتے ہوئے ڈریں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر میرے کسی کارکن کو ہاتھ لگایا تو ہم تھری سٹوجز کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور تمہارے ہینڈلرز کو بھی۔‘
عمران خان نے جلسے میں ’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ کے نعرے بھی لگوائے۔
’میں عوام سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ اپنے راستے میں رکھے گئے کنٹینرز کو ہٹا دیں گے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’نہ کوئی کنٹینر آپ کو روک سکے گا نہ رانا ثنا اللہ آپ کو روک سکے گا، نہ ہی چیری بلاسم۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عوام کا سمندر اسلام آباد آنے والا ہے، چوروں کو چیلنج ہے جو بھی سن رہے ہیں سن لیں عوام کا اتنا بڑا سمندر پہلے نہیں آیا ہوگا۔‘
’عوام کا سمندر جب اسلام آباد آئے گا تو صرف ایک ہی مطالبہ کرے گا، الیکشنز۔‘
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’اگر میں بھی ان کی طرح چور ہوتا تو ان کی طرح آج جوتے پالش کر رہا ہوتا، چیری بلاسم نے میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی۔‘
’تم نے راشد شفیق کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروایا اور انہیں ایئرپورٹ سے گرفتار کروایا، ہم نے ہمیشہ پرامن احتجاج کیا، اسلام آباد میں بھی ہم پرامن احتجاج کریں گے۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم بھکاری نہیں، لائف سپورٹ مشین نہیں، زندہ قوم ہیں، اگر اسلام آباد مارچ کو روکنے کی کوشش کی تو پھر آپ ذمہ دار ہوں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہاں کے میر جعفروں اور میر صادقوں نے مل کر سازش کے تحت ہماری منتخب حکومت کو ختم کیا۔‘
’میں اپنے انصاف کے اداروں سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو ووٹ بیچنے والوں کے خلاف ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا؟‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عدالتیں رات کے 12 بجے کھل سکتی ہیں تو ان چوروں کو کیوں نااہل نہیں کرتیں؟‘

