علی وزیر جیل میں اور شیریں مزاری رہا، دو پاکستان سوشل میڈیا پر زیربحث
اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد عدالتی حکم کے ذریعے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی رہائی پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی بحث کا موضوع ہے اور اس میں قومی اسمبلی کے زیر حراست رکن علی وزیر کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں ٹوئٹر صارفین پوچھ رہے ہیں کہ قانون اور عدالتوں کا رویہ تحریک انصاف کے قائدین اور علی وزیر کے لیے مختلف کیوں ہے؟
خیال رہے کہ علی وزیر ڈیڑھ برس سے کراچی کی جیل میں قید ہیں اور ان کی دو مقدمات میں ضمانت طویل عرصے بعد ہوئی تاہم رہا نہیں کیے گئے۔
جبکہ پولیس نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن اور سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو پنجاب اینٹی کرپشن ڈپیارٹمنٹ کی درخواست پر ڈیرہ غازی خان میں اراضی غیرقانونی طور پر بوگس کمپنیوں کو منتقل کرنے اور ریکارڈ ٹیمپر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تو رات گیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان کی بازیابی کی ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
شیریں مزاری بحیثیت رکن قومی اسمبلی استعفیٰ دے چکی ہیں لیکن ان کا ستعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا۔
قوانین کے مطابق کسی بھی رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قومی اسمبلی کے سپیکر سے اجازت لینا ہوتی ہے۔
شیریں مزاری کی گرفتاری اور رہائی کا موازنہ پشتون تحفظ موومنٹ کےرکن قومی اسمبلی علی وزیر سے کرتے ہوئے صارفین کہہ رہے ہیں اس وقت دو پاکستان ہیں ایک پی ٹی آئی کا اور دوسرا علی وزیر جیسے پاکستانیوں کا جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتیں رات کو نہیں کھلتیں۔

