بجلی کی بچت کے لیے پاکستان میں ہفتہ وار دو چھٹیاں بحال
پاکستان میں حکومت نے سنیچر کی چھٹی بحال کر تے ہوئےکابینہ کے ارکان و سرکاری افسران کے فیول کوٹہ میں 40 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو کابینہ اجلاس کے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ نے سرکاری محکموں کے اجلاس کو ورچوئل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جون کے مہینے میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بتدریج کمی کی جائے گی۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجلی کی طلب 28400 میگاواٹ ہے جبکہ دستیاب بجلی 25600 میگاواٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4600 میگاواٹ کا فرق ہے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ورکنگ گروپ نے غور و خوض کے بعد توانائی بحران کے حوالے سے کچھ اقدامات تجویز کیے جن میں سب سے پہلے ہفتے کی چھٹی بحالی کرتے ہوئے پانچ دن کام اور اس کے ساتھ ایک دن ورک فرام ہوم کی تجویز تھی۔
’وزارت توانائی کی جانب سے جمعے کے لیے ورک فرام ہوم کی بھی ایک تجویز آئی ہے جس کے لیے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل کی ہے۔‘
وزیر اطلاعات کے مطابق غیرمعمول صورتحال کے پیش نظر کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
’کابینہ ارکان اور حکومتی حکام کے بیرون ملک جا کر علاج کرانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری دفاتر کی تزئین و آرائش کا سامان خریدنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
ان کے مطابق حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں کو جلد بند کرنے کی بھی تجویز آئی تھی، اس پر ایک اجلاس ہوگا جس میں تمام صوبوں سے متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔

