فوج کے خلاف ’جھوٹے اور بے بنیاد الزامات‘، عمران خان کی بہن نورین نیازی پر مقدمہ
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے فوج کے حوالے سے بیان پر مقدمہ درج کیا ہے-
سائبر کرائم کے (پیکا) قانون اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کیے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ریاست اور اس کے محکموں، بشمول مسلح افواج، کے خلاف ’جھوٹے اور بے بنیاد الزامات‘ عائد کیے اور عوام کا ریاست پر اعتماد متزلزل کرنے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر چند روز قبل نورین نیازی کے انٹرویو کا ایک کلپ وائرل کیا گیا تھا جس میں انھوں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور ’معرکہِ حق‘، انڈیا کے وزیراعظم مودی، امریکی صدر ٹرمپ اور ابراہم اکارڈ سے متعلق گفتگو کی تھی۔
ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو ایک طلبی نوٹس جاری کیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق متنازع انٹرویو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مختلف اکاؤنٹس سے شیئر کیا گیا اور بعد ازاں وائرل ہو گیا۔
نورین نیازی کے خلاف مقدمے میں پیکا 2016 کی دفعات 20 اور 26 اے جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع میں پاکستانی فوج کی کامیابیوں کو جھٹلانے کی کوشش کی، جبکہ جھوٹا بیانیہ پھیلا کر عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ نورین نیازی کے بیانات کے ذریعے ریاستی اور دفاعی اداروں کی ساکھ کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
این سی سی آئی اے کے مطابق نورین نیازی کو متعدد بار نوٹسز کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے اور تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔

