قائداعظم خود کو پاکستانی ثابت کرنے کے لیے نادرا تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہوں: ہائیکورٹ
پاکستان کی پشاور ہائیکورٹ نے ملک کے بانی قائداعظم کے ہم نام ایک شہری اور اُن کے خاندان کے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر متاثرہ کو نیشنل رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ویریفکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے-
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے رہائشی قائدِاعظم، اُن کی اہلیہ اور چھ بچوں کو افغان قرار دے کر ملک بدری کا خطرہ ہے جس پر انہوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے-
عدالت نے خاندان کو پاکستان بدر نہ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے نادرا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اِن افراد کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کرے اور اگلے 30 روز کے اندر عدالت کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے۔
نادرا کی جانب سے قائداعظم اور اُن کے اہلخانہ کے پاکستانی شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے بعد متاثرہ خاندان نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی اور دعویٰ کیا کہ نادرا نے بغیر کسی تصدیق یا تحقیقاتی عمل کے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کیا ہے۔
نادرا کے ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران نے اس معاملے پر عدالت کو ایک رپورٹ جمع کروائی اور بتایا کہ درخواست گزاروں کے شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیے گئے تھے۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نادرا اور درخواست گزار خاندان کو ہدایات جاری کیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل کے مطابق اُن کے مؤکل قائداعظم ایک کاروباری شخصیت ہیں جو الیکٹرک گاڑیاں بیچتے ہیں اور اس وقت کاروباری دورے پر دبئی میں ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار باقاعدگی سے حکومت پاکستان کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کے پاس بھی پاکستان شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں۔