سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دیدی
سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مدعا علیہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی ہے.
بدھ کو تحریری حکم میں کہا گیا کہ بیان حلفی کی روشنی میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دعا زہرا اپنی مرضی سے جس کے ساتھ جانا چاہے یا رہنا چاہے رہ سکتی ہے –
فیصلے میں کہا گیا کہ تمام شواہد کی روشنی میں اغواء کا مقدمہ نہیں بنتا-عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو کیس کا ضمنی چالان جمع کرانے کا بھی حکم دیا.
کیس کے تفتیشی افسر کو عمر کے تعین سے متعلق میڈیکل سرٹیفکیٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی.
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دعا زہرا کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنا سندھ حکومت کی صوابدید ہے.
عدالت نے دعا زہرا کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے.
قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ نے سندھ سے پنجاب جا کر شادی کرنے والی کم عمر لڑکی دعا زہرہ کے والد کی درخواست پر تفصیلی سماعت کی.
عدالت عالیہ کے جسٹس جنید غفار کے سامنے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ دعا زہرا کو دس تاریخ کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنا ہے، کسٹڈی پنجاب پولیس کے حوالے کی جائے تاکہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا جا سکے.
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کیس یہاں چل رہا ہے-
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ بچی کا بیان ہو چکا ہے آپ جذبانی کیوں ہورہے ہیں.
عدالت نے والد سے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ دعا زہرا کے والد نے کہا کہ میری شادی کو 17 سال ہوئے ہیں میری بچی کی عمر 17 سال کیسے ہو سکتی ہے.
جسٹس جنید غفار نے کہا کہ ہمارے پاس دعا زہرا کا بیان ہے، ہم نے سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کو دیکھنا ہے
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ والد کی دس منٹ کی چیمبر میں ملاقات کروائی جائے-تمام افراد کی تلاشی کی جائے چیمبر میں والدین کی دعا زہرا سے ملاقات کرائی جائے
دعا آپ کی والدین سے ملاقات کرائیں ؟ عدالت کا استفسار،میں نہیں ملنا چاہتی، دعا زہرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ہم چیمبر میں ملاقات کراتے ہیں آپ تسلی سے مل لیں۔عدالت نے چیمبر میں ملاقات کی ہدایت کردی
دعا زہرا کی والدہ زار و قطار روتے ہوئے بیہوش ہوگئیں.
بعد ازاں دعا کی والدہ نے کہا کہ میری بیٹی گھر جانا چاہتی ہے-دعا زہرا نے ملاقات میں کہا میں اب اپنا بیان عدالت میں دوں گی گھر جانا ہے- پولیس نے میری بیٹی کو عدالت میں پیش نہیں کیا شیلٹر ہوم لے گئے.

