جنرل باجوہ پر الزام، حکومت کی ایمان مزاری پر مقدمہ چلانے کی حمایت
مطیع اللہ جان . اسلام آباد
وفاقی حکومت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر کی منسوخی کی درخواست کی مخالفت کی ہے.
جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب پر فوجی حکام اور متعلقہ محکموں نے مشترکہ تحریری جواب پر دستخط کیے ہیں۔
وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی جانب سے تحریری جواب میں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے ایمان مزاری کی رٹ درخواست کی بھرپور مخالفت کی گئی ہے۔
جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فوج کے سربراہ پر جھوٹا الزام لگایا کہ انھوں نے ان کی والدہ کو اغوا کروایا جبکہ واقعے کے فوراً بعد سرکاری طور پر واضح کر دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
عدالت میں جمع کرائے جواب میں وفاقی حکومت نے ڈاکٹر شیریں مزاری اور آرمی چیف کے درمیان تلخ کلامی کے دعوے کی بھی تردید کی ہے۔
ہائیکورٹ نے ایمان مزاری کی عبوری ضمانت میں 20 جون تک توسیع کی ہے.

