پاکستان

مریم نواز کی اپیلوں کی سماعت، وکیل نے عدالت کو کیا بتایا؟

جون 9, 2022

مریم نواز کی اپیلوں کی سماعت، وکیل نے عدالت کو کیا بتایا؟

مطیع اللہ جان. اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی اپیلوں کی سماعت میں‌آج ان کے وکیل نے تفصیلی دلائل دیے.

جمعرات کو ایڈوکیٹ امجد پرویز نے اپیلوں کی سماعت کے دوران اب تک کے حقائق کا مختصر خلاصہ تحریری طور پر پیش کیا
ایڈوکیٹ عرفان قادر نے کہا کہ اپیلوں کی سماعت اور فیصلے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے.

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مریم جواز کے خلاف احتساب عدالت میں سب سے پہلے ایک عبوری ریفرنس دائر کیا گیا جس سے الزامات اور کیس کی درست نوعیت کا معلوم ہوتا ہے.

اس کے مطابق سپریم کورٹ نے سوال ترتیب دئیے اور سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی نے شواہد اکٹھے کئیے اور سپریم کورٹ نے نیب کو چھ ہفتے میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، عبوری ریفرنس میں کہا گیا کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم پر دائر کیا جا رہا ہے جسکے لئیے شواہد نیب اور ایف آئی اے نے اکٹھے کئیے، اور یہ کہ بیرون ملک شواہد کے کئیے خطوط لکھ دئیے گئے ہیں.

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عبوری ریفرنس کے آٹھ پیراگراف وں میں سے چھ پیراگراف محض پس منظر بیان کرتے ہیں اور لندن جائدادوں کی خریداری و ملکیت کے حوالے سے ملزمان کا الگ الگ کردار واضح نہیں کیا گیا، نیب نے احتساب عدالت کے سامنے آخری دن دعوی کیا کہ ان کے پاس والیم ٹین نہیں ہے جبکہ ریکارڈ کے مطابق نیب کے افسران نے عدالت کے سامنے والیم ٹین کے اپنے پاس ہونے کو تسلیم کیا گیا تھا، اور ہمیں اس والیم ٹین کے مطابق لکھے گئے خطوط فراہم نہیں کیے گئے جن سے ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے خلاف کیا معلومات مانگی گئی اور کیا معلومات بیرون ملک سے آئی.

وکیل نے کہا کہ بطور ملزم اپنے دفاع کے لیے والیم ٹین کا ریکارڈ فراہم نہ کر کے ملزم کا دفاع کمزور کیا گیا، برطانیہ، دوبئی اور قطری شھزادے کو لکھے گئے خطوط کا ریکارڈ ہمیں دیا گیا مگر برطانوی بی وی آئی کمپنیوں سے ملنے والے شواہد فراہم نہیں کئیے گئے، یہ سارا ریکارڈ بھی جے آئی ٹی اکٹھا کرتی رہی اور نیب نے خود کچھ نہیں کیا۔
کیس ریکارڈ میں نیب تفتیشی نے تسلیم کیا کہ انہیں نہیں معلوم یہ شواہد کہاں سے آئے اور کس نے ریکارڈ پر رکھے، ان ریکارڈ کی بیرون ممالک سے وصولی کی رسیدوں کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، جرح کے دوران استغاثہ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کونسی دستاویز ہے اور کونسی نہیں، جو دستاویزات سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے ریکارڈ میں تھی ہی نہیں اس کی بنیاد ہر سزائیں سنا دی گئی، نیب کے تفتیشی پر جرح کے دوران انکشاف ہوا کہ ۳۱ مئی ۲۰۱۷ کو باہمی قانونی تعاون کی درخواست مسترد ہوئی اور اس حقیقت کو ریکارڈ پر نہیں لایا گیا، میں نے اسوقت بھی واضح کیا کہ نیب کے گواہ جن دستاویزات کا حوالے دیتے رہے وہ ہمیں فراہم نہیں کئیے گئے، عدالت نے میری استدعا مسترد کرتے ہوئے شواہد کو کیس کا حصہ نہیں بنایا۔ مگر اس حکم کی کاپی تک نہیں دی گئی۔

وکیل کے مطابق نیب کے تفتیشی نے جرح کے دوران یہ تسلیم کیا کہ بی وی آئی کمپنیوں سے جو معلومات مانگی گئی تھی اس کا جوان بیرون ملک سے آج تک نہیں آیا۔ ۲۰۱۲ میں ایک پرائیویٹ درخواست گذار نے جو غیر دستخط شدہ بی وی آئی کے خطوط لگائے ہوئے تھے انکو نیب کے تفتیشی نے اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا کر اسکے حوالے سے بی وی آئی کمپنی سے ان خطوط کے لکھے جانے کی تصدیق کرا دی مگر ان سے ان جائدادوں کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، یہ دستاویزات خود بتاتی ہیں کہ مریم نواز ۲۰۱۲ سے ہہلے ان جائدادوں کی مالک کبھی رہی ہی نہیں۔ نیب نے رابرٹ ریڈ لے نامی اپنے گواہ کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرواتے ہیں اور میں ان ہر جرح کرتا ہوں، اسی طرح دوسروں کا بیان بھی ویڈیو لنک پر ہوتا ہے مگر بی وی آئی کے انسپکٹر کا بیان آج تک ریکارڈ نہیں کرایا گیا، نیب کے ثبوتوں اور کیس میں بہت گھپلے ہیں۔ مشہور بھارتی قانون دان بھاگ متی کا قول ہے کہ ایک دستاویز کی سنی سنائی بات سے زیادہ اہمیت نہیں ہوتی جب تک اس دستاویز کو بنانے یا اس ہر دستخط کرنے والا عدالت میں ہیش نہ ہو۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس حد تک آپ کی بات درست ہے کہ نیب کے کیس میں ملزمان کا انفرادی کردار واضح نیا کیا گیا اور یہ بھی کہ اس سارے کیس میں اعانت اور معاونت کا الزام بھی کیسے لگایا گیا.

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز نے کبھی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھا، ایک ذرا بھی ایسا ثبوت یا گواہ پیش نہیں کیا گیا کہ ۱۹۹۳ سے ۱۹۹۶ تک مریم نواز کا ان جائدادوں کی خریداری میں کوئی کردار تھا،

میاں نواز شریف کے خلاف بھی آمدنی سے زائد اثاثوں کا جو الزام ہے اس حوالے سے بھی نیب نے ایک بھی ثبوت نہیں دیا گیا، رابرٹ ریڈلے نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ نواز شریف کا ان جائدادوں سے کوئی تعلق نہیں مگر نیب کا وکیل کندن جاتا ہے اور رابرٹ ریڈلے کا بیان ریکارڈ نہیں کرتا، نیب کے تفتیشی نے لندن جاکر ایون فیلڈ جائدادوں کے انتظام سنبھالنے والوں کا بھی ریکارڈ اکٹھا نہیں کیا،

مریم نواز بھی کبھی نواز شریف پر مالی طور ہر انحصار نہیں کرتی تھی بلکہ سب بچے اپنے دادا پر انحصار کرتے تھے، قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ منصفانہ تفتیش کے بغیر منصفانہ ٹرائل ایک خواب ہے۔ کسی بھی تفتیشی کو بغیر مناسب ثبوتوں کے کسی ملزم کو طلب کرنے کا بھی اختیار نہیں، نیب کے تفتیشی نے جرح میں اقرار کیا کہ ملزمان کی طلبی سے پہلے انکے پاس کوئی ثبوت یا کسی کی طرف سے تحریری شکایت بھی نہیں تھی، تفتیشی نے مریم نواز سے یہ سوال تک نہیں کیا کہ آپ نے اثاثے چھپانے میں ملزمان کی اعانت کی.

جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے لندن جائدادوں کی ملکیت ہونے کی تردید کی ہے؟

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ کندن جائداد انکی ہے اور انکی اسمبلی میں کی گئی ایک تقریر کو بنیاد بنا کر اسکے خلاف ثبوت بنا دیا۔ ماورا عدالت بیانات کو کو کبھی بھی عدالت میں بطور اعتراف ہیش نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ کہ کیا نیب نے پوچھا کہ لندن جائدادیں آج بھی میاں نواز شریف کے قبضے یا استعمال میں ہیں؟ ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے یہ سوال بھی آج تک نہیں پوچھا۔

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلیل دی کہ نیب کے تفتیشی نے محض سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر مریم نواز کیخلاف مقدمہ بنا دیا، اس کیس میں واجد ضیا کی حیثیت محض ایک آئی او کی ہے۔

فنانشل انویسٹیگیشن یونٹ کے ایک خط کے حوالے سے امجد پرویز نے بتایا کہ وہ خط اٹارنی جنرل کو لکھنے کی بجائے براہ راست جے آئی ٹی کو بھیجا گیا جسکی بنیاد پر مریم نواز کو بینیفشل اونر قرار دیا گیا،

جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا نیب نے دوبئی سے آنے والے پیسے کا کو تعلق میاں نواز شریف سے جوڑا یا کسی گواہ نے ایسا کوئی تعلق بیان کیا ، ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ ایسا کوئی تعلق نہیں جوڑا گیا اور حتی کہ جائداد کی قیمت کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔
سماعت ملتوی کر دی گئی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے