پاکستان

حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب رہیں گے یا نہیں، فیصلہ محفوظ

جون 29, 2022

حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب رہیں گے یا نہیں، فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

عدالت کے مطابق فیصلہ جمعرات کی دوپہر ساڑھے 12 بجے سنایا جائے گا۔

بدھ کو جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ نے حمزہ شہباز کے الیکشن اور حلف کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی ۔

بینچ میں جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیے کہ منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح موجودہ حالات میں لاگو ہو گی، اگر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فیصلے کا اطلاق ماضی سے ہو گا تو فوری احکامات جاری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے یا نہیں یہ معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، ہم الیکشن اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو دیکھ رہے ہیں۔

اپنے دلائل میں حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق مستقبل کے کیسز پر بھی ہوا ہے۔ جس پر جسٹس شاہد جمیل کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ میں جاکر اس فیصلے پر نظر ثانی کروائیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہم تو سپریم کورٹ کا فیصلہ اطلاق سمجھتے ہیں۔‘

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیے کہ ’اب تو پورے پاکستان کو پتا چل گیا ہے کہ ہم یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا ماضی سے اطلاق ہو گا۔‘

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے۔

صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، سپیکر پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے