پاکستان

شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو وزیراعظم پیش ہوں: عدالت

جولائی 4, 2022

شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو وزیراعظم پیش ہوں: عدالت

عمر برنی، صحافی۔ اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد افراد کیس میں حکم دیا ہے کہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کے ذمے دار ریاستی اہلکاروں کی برطرفیوں سمیت ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وزیراعظم 9 ستمبر کو ذاتی طور پر عدالت میں ہیش ہوں گے۔

پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت میں یہ حکم دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی مدثر نارو و دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں اور وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر انسانی حقوق کے لاپتہ افراد کے حوالے سے انٹرویو زسے متعلق متفرق درخواست پر سماعت کی۔

وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی اور خواجہ امتیاز عدالت پیش ہوئے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا اس کیس میں کمیشن کی رپورٹ فائل کی گئی۔ وزیر داخلہ کو عدالت نے طلب کیا تھا مگر وہ کابینہ اجلاس میں شریک ہیں جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی بیمار ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تو عدالت کیا کرے؟ چیف ایگزیکٹو کو نوٹسسز جاری کرے؟ اس کیس میں دو فورمز نے جبری گمشدگیوں کو تسلیم کیا۔ جے آئی ٹی اور پنجاب ٹاسک فورس نے بھی کہا کہ ریاست ملوث ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس ودیگر ادارے جو جے آئی ٹی میں تھے سب نے جبری گمشدگی کا کہا۔ یہ ساری ایجنسیاں کس کے ماتحت ہیں؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملک کی تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یا آپ دلائل دیں یا یہ عدالت چیف ایگزیکٹو کو سمن جاری کرے گی؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ حساس معاملہ ہے اٹارنی جنرل اس کیس میں خود دلائل دینا چاہتے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کہ کہ اٹارنی جنرل ویڈیو لنک پر آکر دلائل دیں۔ اس معاملے میں صرف فارمیلٹیز ہورہی ہیں، نہ موجودہ حکومت اور نہ ہی پچھلی حکومت نے کچھ کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا پچھلی حکومت کا کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر موجودہ حکومت اس معاملے کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس حکومت نے ابھی تک کیا کیا جو آپ کہہ رہے ہیں کہ سیریس ہے؟

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 7 پڑھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ سارے ادارے ریاست کے ماتحت ہیں اور ذمہ دار بھی ہیں۔

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں ہورہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کچھ چیزیں آئین کے مطابق نہیں ہو رہیں؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا زیادہ تر کیسسز گزشتہ دور حکومت کے ہیں، عدالت گزشتہ چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے اس عدالت نے تمام چیف ایگزیکٹو سے بیان حلفی جمع کرنے کا کہا تھا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا عدالت تمام چیف ایگزیکٹو کو ڈائرکٹ سمن کرے تو بہتر ہوگا۔ عدالت سے درخواست ہے کہ تھوڑا وقت دیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے اس عدالت نے بہت وقت دیا، مزید نہیں دے سکتی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا لاپتہ افراد کے لواحقین کا ہمیں بھی احساس ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو بلکہ کسی کو بھی لاپتہ افراد کے لواحقین کا احساس نہیں ۔ اگر احساس ہوتا تو وفاقی حکومت ان کے پاس پہنچتی، ان کو عدالت آنے ہی نہیں دیتی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ کمیٹی لاپتہ افراد کے لواحقین کو بلا لے گی جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کمیٹی ان کو کیوں بلائے؟ ریاست ان کے پاس کیوں نہیں جاتی؟ متاثرہ یہ ہیں، کمیٹی نہیں۔ جب ایجنسیوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا کیس ہے تو ریاست کو خود تفتیش کرنا چاہیے تھی۔ دو سال سے کمشین صرف نوٹس پر نوٹس دے رہا ہے۔ یہ عدالت کس سے تحقیقات کرائے؟ دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی نے قرار دیا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔ 2020 سے تو صرف لاپتہ افراد کمیشن نے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے ہیں۔ یہ عدالت مزید کیوں وقت دے، کیوں نہ عدالت فیصلہ کرے؟

دوران سماعت دو لاپتہ بھائیوں کے والد نے موقف اختیار کیا کہ میرے دو بیٹوں کا کیس بالکل واضح ہے، عینی شاہدین بھی موجود ہیں۔ میرے دونوں بیٹوں کا پروڈکشن آرڈرز 2017 میں جاری ہوئے اور مانا گیا کہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔ میرے دونوں بیٹے 2016 میں اسلام آباد سے اٹھائے گئے تھے۔

کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ محبت شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں، پڑھنا چاہوں‌گا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا ہے اور ابھی یہاں زیر سماعت ہے۔ آرمی سپریم کورٹ میں خود یہ مان چکی کہ ہم نے اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ میں ملٹری آفیشلز نے 37 افراد کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا آرمڈ فورسز کیوں اس قسم کے غیر قانونی کاروائیوں میں ملوث ہیں؟

ایمان زینب مزاری ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ کمیشن کی پہلی رپورٹ میں جو تجاویز دی گئی تھیں اس پر بھی ابھی تک عمل نہیں ہوا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ تجاویز پر عملدرآمد کس کا کام ہے؟ جس پر ایمان زینب مزاری نے بتایا کہ تجاویز پر عملدرآمد کرنا وفاقی حکومت اور چیف ایگزیکٹو کا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیکورٹی اداروں نے نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے؟

انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا سپریم کورٹ کے فیصلے میں لاپتہ افراد کے باقاعدہ نام دئیے گئے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی فیملی کو ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ درخواست گزار کا بھائی لاپتہ ہے اور فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔

دوران سماعت پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے موقف اپنایا کہ 2018 میں چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن نے سنیٹ کمیٹی میں کہا کہ 153 آرمی کے لوگ ملوث ہیں۔ جی ایچ کیو میں باقاعدہ طور پر لاپتہ افراد کے لیے سیل بنایا گیا۔ اڈیالہ جیل سے 111 افراد رہا ہوئے اور باہر دروازے پر ہی اٹھا لیے گئے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ سب admitted ہے، پارلیمنٹ نے کیا کیا؟

فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ پارلیمنٹ نے قانون بنایا جس میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کو دائرہ اختیار میں لایا جائے، مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کسی بھی قانون کے تحت نہیں آتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ جو آئین میں لکھا گیا ہے یہ عدالت اس کی قدر کرتی ہے اور عمل کرے گی۔ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ایک بل آیا اور وہ بل بھی غائب ہوگیا۔ اس عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے۔ حکومت کس کو جوابدہ ہے؟

فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ حکومت پارلیمنٹ کو ہی جوابدہ ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے موقف اپنایا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ نیشنل سیکورٹی کا معاملہ ہے۔ باتیں سب کرتے ہیں عملاً کام کوئی نہیں کرتا۔

دوران سماعت ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی آمنہ جنجوعہ نے موقف اپنایا کہ وزیر داخلہ اور وزیر انسانی حقوق نے خود کہا کہ ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ عدالت فیصلے میں یہ لکھیں کہ ریاست بےیار و مددگار ہے؟

آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ انہوں نے تو لاپتہ افراد کو کلبھوشن یادیو کے ساتھی قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے ایک معزز پارلمینٹرین کہہ رہے ہیں کہ پارلیمان ہیلپ لیس ہے۔
فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ یہاں سے ریاست کے اندر ریاست ہے۔ ان معاملات میں آئین کو بہت عرصے سے سائڈ پر رکھا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین پر عمل درآمد کرنا کس کی ذمہ داری ہے جس پر فرحت اللہ بابر نے جواب دیا کہ ان معاملات میں ہم سب ذمہ دار ہیں۔ عدالت انتظامیہ سے اتنا پوچھے کہ اگر پارلیمان سے ہدایات آئی ہیں تو عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے گیا تو بھی ریاست انکے لواحقین کو بتاکر مطمئن کرے۔ بتایا جائے میں کس کو سمن کروں، کس سے جواب طلب کروں؟

فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ میری درخواست ہوگی کہ چیف ایگزیکٹو کو سمن کرکے عدالت بلایا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عابد نظیر ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کیا کرے؟ بار کے حوالے سے آپکی کیا رائے ہے؟ کہا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ اور گزشتہ تمام چیف ایگزیکٹو بے یار و مددگار تھے۔ عابد نظیر ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ میرے خیال میں پارلیمنٹ کو تو ہیلپ لیس نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت کو اپنے گزشتہ آرڈر پر جانا چاہیے، وزیر داخلہ کو سمن کرے۔ عدالت ایگزیکٹو کو ہی اپنے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے سپریم کورٹ نے 2013 میں فیصلہ دیا ہے جو ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس عدالت نے گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت کو بھی یہ معاملہ بھیجا تھا مگر ہوا کچھ نہیں۔ اگر ان معاملات میں ملٹری کا کوئی شخص ملوث ہے تو ان کا کورٹ مارشل کرنا چاہیے۔ عابد نظیر ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ جانوروں کے حقوق ہیں۔ لاپتہ افراد تو پھر بھی انسان ہیں۔ ان کے حقوق ہیں۔ کوئی آرڈر پاس کرنے سے پہلے وزیراعظم کو بلایا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ گزشتہ وزیر داخلہ کہاں ہیں؟ وہ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ پچھلے جو وزیر داخلہ تھے وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ 2016 میں وزیر داخلہ کون تھا جب اسلام آباد سے ان کے دو بیٹے لاپتہ ہوئے؟ ان لوگوں کی ان سکیورٹی تب ہوگی جب آئین پر عمل درآمد ہوگا۔ جب لوگوں کو یہ لگے کہ آرمڈ فورسز لاپتہ کرنے میں ملوث ہیں تب نیشنل سیکورٹی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس وقت کتنے شہری لاپتہ ہیں؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق 8 ہزار چار سو میں سے ابھی 6 سو لوگ لاپتہ ہیں۔ بہت سارے لوگ اس کیس میں ڈبل رول ادا کررہے ہیں، ادھر بھی ادھر بھی۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل پر اظہار برہمی کرنے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ باتیں نہ کریں۔ پولیس کا کیا کام ہے پھر؟

فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ اتنے لوگوں کو اٹھایا گیا، ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ کس نے ان لوگوں کو اٹھایا۔ عدالت نے فرحت اللہ بابر سے استفسار کیا کہ آپ کس جماعت کے نمائندے ہیں؟ کیا وہ کبھی حکومت میں رہی ہے؟ فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتا ہوں اور وہ بھی حکومت میں ہی رہی ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپکی حکومت میں بھی لوگ اٹھائے گئے آپ نے تب کیا کیا؟ فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ منصور عالم کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے تو ان سے یہ پوچھیں کہ وہ رپورٹ وفاقی حکومت کے پاس ہے بھی یا نہیں۔ فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ میری نظر میں دور جانے کی ضرورت نہیں، وزیر اعظم کو بلایا جائے۔ نیچے جتنے لوگوں کو بھی عدالت بلائے، اس سے کام نہیں بنے گا۔ یہ عدالت وزیر اعظم کو ویڈیو لنک پر بھی سن سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کو وڈیو لنک پر کیوں سنیں؟ یہاں کیوں نہ بلائیں؟ لاپتہ افراد کے لواحقین suffer کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں؟

دوران سماعت ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے تحت کون کونسی ایجنسیاں ہیں؟ ڈپٹی سیکرٹری نے جواب دیا کہ ایف آئی اے، ایف سی خیبرپختونخوا، بلوچستان وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔ آئی بی، آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہیں۔ کمیٹی اس حوالے سے بہت سیریس ہے، بس تھوڑا سا وقت دیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے ریاست کو ایک موقع دیا ہے، کمیٹی کے میٹنگ کو عدالت ابزرو کریگی۔

عدالت نے فرحت اللہ بابر اور ممبر اسلام آباد بار کونسل عابد نظیر ایڈوکیٹ کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔ عدالت نے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوں۔ کیس کی سماعت 9 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے