جبری گمشدگی کے ذمہ داروں کی برطرفی یا وزیراعظم پیش ہوں:اسلام آباد ہائیکورٹ
مطیع اللہ جان سے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں حکم دیا ہے کہ اگر ذمے دار ریاستی اہلکاروں کی برطرفیوں سمیت ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وزیر اعظم نو ستمبر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونگے۔
سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم کے باوجود اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور سابق و موجودہ وزرئے داخلہ ذاتی طور پر پیش نہ ہو سکے
ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے بتایا کہ کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج ہونا تھا مگر اسی وقت آج کابینہ کا اجلاس بلا لیا گیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پھر ہم چیف ایگزیکٹو (وزیر اعظم) کو بلا لیتے ہیں، عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی اور کمیشن نے دو سگے بھائیوں کے کیس میں اسے جبری گمشدگی قرار دیا ہے اور یہ اینٹیلیجنس ایجنسیاں کس کے ماتحت ہیں، اب اگلی تاریخ نہیں دی جائیگی، آج آپ (ڈپٹی اٹارنی جنرل) دلائل شروع کریں یا پھر ہم وزیر اعظم کو بلا لیتے ہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ اٹارنی جنرل خود دلائل دینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ویڈیو لنک پر آ جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دنیا کی بہترین اینٹیلیجنس ایجنسی نے اس کیس کو جبری گمشدگی قرار دیا ہے، سویلین بالادستی اور نگرانی کا اصول کہاں گیا؟
ریاست کے تمام ادارے ان گمشدگیوں کے ذمے دار ہیں اور بڑی ذمے داری حکومت کی ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں سب کام قانون کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ موجودہ اور سابقہ وزرائے اعظم کے حلفیہ بیان ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکے حلفیہ بیانات لینے کے لئیے کابینہ ڈویژن کو لکھ دیا گیا ہے، انہوں نے کہا موجودہ حکومت کو تھوڑا سا ٹائم دیا جائے، چیف جسٹس نے پوچھا کس مقصد کے لئیے مزید وقت دیا جائے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اگر احساس ہوتا تو لاپتہ افراد کے لواحقین سے رابطہ کیا جاتا، ریاست اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، دو لاپتہ بھائیوں کے کیس میں تمام ریاستی ایجنسیوں آئی ایس آئی، ایم آئی، کاؤنٹر ٹیرورزم اور ٹاسک فورس نے قرار دیا کہ ان بھائیوں کو جبری طور پر گمشدہ قرار دیا گیا، تو ریاست نے پھر کیا ایکشن لیا کہ یہ کس ادارے کے پاس ہے، یہ عدالت اب کس سے اس معاملے کی تحقیقات کروائے؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو ایک ایک لمحے کا احساس ہے مگر تھوڑا سا ٹائم دیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ ۲۰۲۰ سے یہ کیس زیر التوا ہے، ہم فیصلہ کیوں نہ سنائیں۔
ایڈوکیٹ راجہ مشتاق نے کہا کہ انکے دو سگے بیٹے فیصل اور قاسم کی جبری گمشدگی ثابت ہے اور ۱۹ دسمبر ۲۰۱۷ سے کمیشن کا پروڈکشن موجود ہے مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں کہ جا رہی۔ چیف جسٹس نے کہا ان دونوں کو تو وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
ایڈوکیٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ ۲۰۱۳ میں سپریم کورٹ نے مالاکنڈ حراستی مرکز کے ۳۵ قیدیوں متعلق اپنے حکم میں ان قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس ہر آج تک عمل نہیں ہوا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیر دفاع کو وہ حکم ابھی ملا ہے، چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کیا کہ ۲۰۱۳ کا سپریم کورٹ کا حکم ابھی وزیر دفاع کو ملا ہے، ایڈوکیٹ انعام الرحیم نے بتایا کہ ایک فوجی اہلکار نے سپریم کورٹ کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ یہ لوگ اسکی تحویل میں رہے۔
ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے ۲۰۱۰ کی لاپتہ افراد کے کمیشن کی رپورٹ کی ایک سفارش کا حوالہ دیا کہ خفیہ اداروں کو شھریوں کو گرفتار کرنے کا کوئی اختیار نہیں دینا چاہئیے، چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہئیے تھا، کیا حکومت نے ۲۰۱۳ کے سپریم کورٹ کے حکم کیخلاف کوئی نظر ثانی دائر کی تھی، اٹارنی جنرل خاموش رہے پھر کہا کہ مزید وقت دیا جائے۔
کرنل ریٹائرڈ ایڈوکیٹ انعام الرحیم نے کہا کہ اگر حکومت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو وکیل سے ملاقات کے لئیے پارلیمنٹ سے قانون پاس کروا سکتی ہے تو ان لاپتہ افراد کو اہل خانہ سے کیوں نہیں ملنے دیتی،
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے انکشاف کیا کہ لاپتہ افراد کے چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پارلیمان کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ۱۵۸ ریاستی اہلکاروں کو شھریوں کو لاپتہ کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں اور فوج کے ترجمان نے بیان دیا کہ جی ایچ کیو میں لاپتہ افراد سے متعلق خصوصی سیل بنایا گیا ہے،
چیف جسٹس نے کہا کہ آپکی باتوں سے لگتا ہے کہ ملک میں سویلین کنٹرول و نگرانی کو وجود ہی نہیں، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کوئی قانون نہیں ایجنسیوں متعلق، چیف جسٹس نے کہا آئی ایس آئی متعلق قانون کی ضرورت نہیں بلکہ اگر کوئی افسر وزیر اعظم کا حکم نہیں مانتا تو اسکا کورٹ مارشل کرنا چاہیے، یہ ساری ذمے داری وزیر اعظم کی ہے، آپکی پارلیمنٹ نے اس تمام صورت حال میں کیا کیا؟ کیا پارلیمنٹ بے بس ہے؟ پارلیمنٹ بے بس نہیں ہوتی اسکے بڑے اختیار ہیں۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ ناکام ہو گئی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ناکام ہو گئی ہے تو پھر یہ عدالت کیا کرے؟ کیا ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم وزیر اعظم کو بلا لیتے ہیں اور یہ بات وزیر اعظم عدالت میں خود آ کر کہے۔ یہ بہت بڑا قومی سلامتی کا ایشو ہے۔ کیا عدالت یہ قرار دے کہ پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست ہے؟ آئین کی بنیادی منشا سویلین کنٹرول اور نگرانی ہے جسکو عدالت نے یقینی بنانا ہے، اگر ایک پارلیمنٹیرین کہتا ہے کہ آئین ناقابل عمل ہے تو پھر عدالت کیا کرے، اگر یہ آئین کی پامالی ہے تو کس کے خلاف کاروائی کی جائے اور کس مدت سے ایسا کیا جائے؟ آئین کا دفاع کس نے کرنا ہے؟
سینیٹر فرحت اللہ بابار نے کہا کہ حکومت، پارلیمان اور عدلیہ نے آئین کا دفاع کرنا ہے، مگر پارلیمنٹ میں قانون سازی مکے حوالے سے ۲۰۱۵ سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ٹروتھ اینڈ ریکنسیلایشن کمیشن میں جرم کرنے والوں کو عام معافی ملے گی اور ایسی خفیہ سماعت میں ملزمان معافی کے عوض سچ بولیں گے اور کم از کم یہ بتائیں گے کہ لاپتہ افراد زندہ یا مردہ ہیں کہاں۔ یہاں نو سال پرانے پروڈکشن آرڈر وں پر بھی عمل نہیں ہوا، کم از کم اہل خانہ کو یہ سکون ملے گا کہ انکے پیارے اس دنیا میں ہیں یا نہیں، مجھے کسی سے بدلہ نہیں ملنا۔ پاکستان میں لاپتہ افراد کا کوئی قانونی سٹیٹس نہیں ہے، وزیر اعظم کو طلب کیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں موجود پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چئیرمین عابد صاقی کو معاونت کے کئیے روسٹرم پر بلایا اور پوچھا کہ لاپتہ افراد کیس میں حکومت کے پاس جواب نہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ بے بس ہے تو عدالت کیا کرے؟ عابد صاقی نے کہا پارلیمان بے بس نہیں ہو سکتی اور فرحت اللہ بابر صاحب بھی موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت صرف حکومت کو ہی جوابدے بنا سکتی ہے اور فیصلہ دے سکتی، عابد صاقی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو طلب کیا جائے اور لاپتہ افراد متعلق عدالتی احکامات پر عمل کروایا جائے۔ عابد صاقی نے کہا حکومت کو عوام کو جوابدے ہونا چاہیے، عدالت حکومت سے عدالتی احکامات ہر عمل کروائے، چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سپریم کورٹ کے ایک حکم ہر ۲۰۱۳ سے عمل نہیں ہوا، اس عدالت نے بھی اس کیس میں حکومت کو احکامات دئیے جن پر عمل نہیں ہو رہا۔
عابد صاقی نے کہا کہ ہمارے ہاس عدالت پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ابتدا میں وزیر داخلہ کو طلب کرنا ضروری ہے، اگر ایک وزیر اعظم کو عدالتی حکم نہ ماننے پر گھر بھیجا جا سکتا ہے تو باقیوں کو کیوں نہیں؟ وزیر اعظم کو بھی اس معاملے میں طلب کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قواعد موجود ہیں کہ سول سرونٹ ہوں تو قواعد کے مطابق کاروائی ہو گی اور اگر کوئی فوجی افسر ملوث ہے تو اسکا کورٹ مارشل ہونا چاہیے مگر یہ سب کون کریگا؟
عابد صاقی نے کہا یہ حکومت کرنا ہے، میری استدعا ہے کہ وزیر اعظم کو طلب کیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ سابق وزیر داخلہ کیوں نہیں آئے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں، عابد صاقی نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کام ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ جب دو بھائیوں کو اسلام آباد سے اٹھایا گیا تو اسوقت وزیر داخلہ کون تھے، عدالت کو بتایا گیا کہ اسوقت احسن اقبال وزیر داخلہ تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سربراہ حکومت (جنرل مشرف) نے کتاب میں لکھ دیا کہ یہ ریاستی پالیسی تھی۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا عدالت نے جنرل مشرف کو بھی نوٹس دینے کا کہا تھا جس ہر عمل نہیں ہوا۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اصل ایشو ریاست کے اندر ریاست ہے اور وزیر اعظم کو بلایا جائے جس سے بہت سی چیزیں سامنے آ جائیں گی اور پھر دروازہ کھل جائیگا، نیچے والے لوگوں کو بلانے سے بات نہیں بنے گی، آپ وزیر اعظم کو بند کمرے میں بھی سن سکتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا بند کمرے میں کیوں، عوام کا جاننے کا حق ہے، پچھلے دو سال میں اس عدالت کے دائرہ اختیار سے جو کوگ اٹھائے گئے ان کے متعلق ریاست نے آج تک تحقیق نہیں کہ۔
وزارتِ داخلہ کے ڈپٹی سیکریٹری اچانک عدالت میں ہیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ آئی بی اور آئی ایس آئی وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں اور استدعا کی کہ بنائی گئی کمیٹی سنجیدگی سے کام کریگی کچھ ٹائم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکومت کو ایک موقعہ دے رہی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے معاملے ہر اپنے ٹھوس سیاسی عزم کا عملی اقدامات کے ذریعے مظاہرہ کرے، یہ آخری اور حتمی موقعہ دیا جا رہا ہے، اس سیاسی عزم کو عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا، ذمے داران کو برطرف کیا جائے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپکی پارٹی جب حکومت میں تھی تو کیا کیا؟ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انکی جماعت نے لاپتہ افراد کو کمیشن بنایا، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنا، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور کی پہلی رپورٹ انکی حکومت میں آئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اسکی رپورٹ بھی آج تک لاپتہ ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور سابق و موجودہ وزرأ داخلہ شیخ رشید اور رانا ثنااللہ کے ہمراہ آج ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ انکی غیر حاضری کا عدالت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔
ان لاپتہ افراد میں چار سال سے لاپتہ صحافی مدثر نارو کے علاوہ ایڈوکیٹ راجہ مشتاق کے دو سگے بیٹے قاسم اور فیصل بھی شامل ہیں جنکو چھ سال پہلے اٹھایا گیا تھا، حکومت نے عدالتی حکم پر ان لاپتہ افراد سے متعلق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی مگر پچھلی سماعت تک اسکی میٹنگ نہیں ہو سکی تھی
حال ہی میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین ہے اور ایسی افراد کو بغیر قانون سازی کے منظر عام پر لانا نا ممکن ہو گا اور یہ کہ پارلیمان، حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر اسکا حل نکالنا ہو گا، وزیر داخلہ کے اس بیان کو بنیاد بنا کر لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک ضمنی درخواست بھی دائر کی جس پر آج سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں مدثر نارو کی والدہ اپنے چار سالہ پوتے سچل کے ہمراہ عدالت میں ہیش ہوئی، سچل کی والدہ اپنے شوہر کے انتظار میں گزشتہ سال مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک سے چل بسی تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آخری سماعت میں حکم دیا تھا کہ آئیندہ سماعت پر مزید التوا کی بجائے دلائل سنے جائینگے تاکہ اس کیس کا حتمی فیصلہ سنایا جائے۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ ناکام ہو گئی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ناکام ہو گئی ہے تو پھر یہ عدالت کیا کرے؟ کیا ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم وزیر اعظم کو بلا لیتے ہیں اور یہ بات وزیر اعظم عدالت میں خود آ کر کہے۔ یہ بہت بڑا قومی سلامتی کا ایشو ہے۔ کیا عدالت یہ قرار دے کہ پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست ہے؟ آئین کی بنیادی منشا سویلین کنٹرول اور نگرانی ہے جسکو عدالت نے یقینی بنانا ہے، اگر ایک پارلیمنٹیرین کہتا ہے کہ آئین ناقابل عمل ہے تو پھر عدالت کیا کرے، اگر یہ آئین کی پامالی ہے تو کس کے خلاف کاروائی کی جائے اور کس مدت سے ایسا کیا جائے؟ آئین کا دفاع کس نے کرنا ہے؟
سینیٹر فرحت اللہ بابار نے کہا کہ حکومت، پارلیمان اور عدلیہ نے آئین کا دفاع کرنا ہے، مگر پارلیمنٹ میں قانون سازی مکے حوالے سے ۲۰۱۵ سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ٹروتھ اینڈ ریکنسیلایشن کمیشن میں جرم کرنے والوں کو عام معافی ملے گی اور ایسی خفیہ سماعت میں ملزمان معافی کے عوض سچ بولیں گے اور کم از کم یہ بتائیں گے کہ لاپتہ افراد زندہ یا مردہ ہیں کہاں۔ یہاں نو سال پرانے پروڈکشن آرڈر وں پر بھی عمل نہیں ہوا، کم از کم اہل خانہ کو یہ سکون ملے گا کہ انکے پیارے اس دنیا میں ہیں یا نہیں، مجھے کسی سے بدلہ نہیں ملنا۔ پاکستان میں لاپتہ افراد کا کوئی قانونی سٹیٹس نہیں ہے، وزیر اعظم کو طلب کیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں موجود پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چئیرمین عابد صاقی کو معاونت کے کئیے روسٹرم پر بلایا اور پوچھا کہ لاپتہ افراد کیس میں حکومت کے پاس جواب نہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ بے بس ہے تو عدالت کیا کرے؟ عابد صاقی نے کہا پارلیمان بے بس نہیں ہو سکتی اور فرحت اللہ بابر صاحب بھی موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت صرف حکومت کو ہی جوابدے بنا سکتی ہے اور فیصلہ دے سکتی، عابد صاقی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو طلب کیا جائے اور لاپتہ افراد متعلق عدالتی احکامات پر عمل کروایا جائے۔ عابد صاقی نے کہا حکومت کو عوام کو جوابدے ہونا چاہیے، عدالت حکومت سے عدالتی احکامات ہر عمل کروائے، چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سپریم کورٹ کے ایک حکم ہر ۲۰۱۳ سے عمل نہیں ہوا، اس عدالت نے بھی اس کیس میں حکومت کو احکامات دئیے جن پر عمل نہیں ہو رہا۔
عابد صاقی نے کہا کہ ہمارے ہاس عدالت پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ابتدا میں وزیر داخلہ کو طلب کرنا ضروری ہے، اگر ایک وزیر اعظم کو عدالتی حکم نہ ماننے پر گھر بھیجا جا سکتا ہے تو باقیوں کو کیوں نہیں؟ وزیر اعظم کو بھی اس معاملے میں طلب کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قواعد موجود ہیں کہ سول سرونٹ ہوں تو قواعد کے مطابق کاروائی ہو گی اور اگر کوئی فوجی افسر ملوث ہے تو اسکا کورٹ مارشل ہونا چاہیے مگر یہ سب کون کریگا؟
عابد صاقی نے کہا یہ حکومت کرنا ہے، میری استدعا ہے کہ وزیر اعظم کو طلب کیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ سابق وزیر داخلہ کیوں نہیں آئے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں، عابد صاقی نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کام ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ جب دو بھائیوں کو اسلام آباد سے اٹھایا گیا تو اسوقت وزیر داخلہ کون تھے، عدالت کو بتایا گیا کہ اسوقت احسن اقبال وزیر داخلہ تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سربراہ حکومت (جنرل مشرف) نے کتاب میں لکھ دیا کہ یہ ریاستی پالیسی تھی۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا عدالت نے جنرل مشرف کو بھی نوٹس دینے کا کہا تھا جس ہر عمل نہیں ہوا۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اصل ایشو ریاست کے اندر ریاست ہے اور وزیر اعظم کو بلایا جائے جس سے بہت سی چیزیں سامنے آ جائیں گی اور پھر دروازہ کھل جائیگا، نیچے والے لوگوں کو بلانے سے بات نہیں بنے گی، آپ وزیر اعظم کو بند کمرے میں بھی سن سکتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا بند کمرے میں کیوں، عوام کا جاننے کا حق ہے، پچھلے دو سال میں اس عدالت کے دائرہ اختیار سے جو کوگ اٹھائے گئے ان کے متعلق ریاست نے آج تک تحقیق نہیں کہ۔
وزارتِ داخلہ کے ڈپٹی سیکریٹری اچانک عدالت میں ہیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ آئی بی اور آئی ایس آئی وزارت داخلہ کے ماتحت نہیں اور استدعا کی کہ بنائی گئی کمیٹی سنجیدگی سے کام کریگی کچھ ٹائم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکومت کو ایک موقعہ دے رہی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے معاملے ہر اپنے ٹھوس سیاسی عزم کا عملی اقدامات کے ذریعے مظاہرہ کرے، یہ آخری اور حتمی موقعہ دیا جا رہا ہے، اس سیاسی عزم کو عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا، ذمے داران کو برطرف کیا جائے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپکی پارٹی جب حکومت میں تھی تو کیا کیا؟
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انکی جماعت نے لاپتہ افراد کو کمیشن بنایا، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنا، فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور کی پہلی رپورٹ انکی حکومت میں آئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اسکی رپورٹ بھی آج تک لاپتہ ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور سابق و موجودہ وزرأ داخلہ شیخ رشید اور رانا ثنااللہ کے ہمراہ آج ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ انکی غیر حاضری کا عدالت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔
ان لاپتہ افراد میں چار سال سے لاپتہ صحافی مدثر نارو کے علاوہ ایڈوکیٹ راجہ مشتاق کے دو سگے بیٹے قاسم اور فیصل بھی شامل ہیں جنکو چھ سال پہلے اٹھایا گیا تھا، حکومت نے عدالتی حکم پر ان لاپتہ افراد سے متعلق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی مگر پچھلی سماعت تک اسکی میٹنگ نہیں ہو سکی تھی
حال ہی میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین ہے اور ایسی افراد کو بغیر قانون سازی کے منظر عام پر لانا نا ممکن ہو گا اور یہ کہ پارلیمان، حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر اسکا حل نکالنا ہو گا، وزیر داخلہ کے اس بیان کو بنیاد بنا کر لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک ضمنی درخواست بھی دائر کی جس پر آج سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں مدثر نارو کی والدہ اپنے چار سالہ پوتے سچل کے ہمراہ عدالت میں ہیش ہوئی، سچل کی والدہ اپنے شوہر کے انتظار میں گزشتہ سال مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک سے چل بسی تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آخری سماعت میں حکم دیا تھا کہ آئیندہ سماعت پر مزید التوا کی بجائے دلائل سنے جائینگے تاکہ اس کیس کا حتمی فیصلہ سنایا جائے۔

