پاکستان

پی ٹی آئی حکومت نے عوامی پیسے سے ملک ریاض کا جرمانہ کیوں بھرا؟

اگست 19, 2022

پی ٹی آئی حکومت نے عوامی پیسے سے ملک ریاض کا جرمانہ کیوں بھرا؟

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی(این سی اے) اور علی ریاض کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ان کے دور حکومت میں کابینہ نے نہیں دیکھا۔

ایم جے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ علی ریاض کے خلاف این سی اے نے انکوائری شروع کی کہ ایک سو چار ملین ڈالر آپ کے پاس کہاں سے آئے؟

علی ریاض نے درخواست دی کہ میں کاروباری آدمی ہوں اس انکوائری میں نہیں پڑنا چاہتا۔میں یہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کر دیتا ہوں،اگر آپ یہ انکوائری بند کر دیں اور دوسرا یہ کہ یہ معاہدہ خفیہ رہے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اب ہمارے پاس دو آپشن تھے یا تو ہم ایک سو چار ملین ڈالر پاکستان منگوا لیں یا کیس لڑیں۔ کابینہ نے کہا کہ کیس کی صورت میں میں پندرہ سال لگیں گے لہذا ہم نے ڈالر منگوا لئے۔

فواد چوہدری سے استفسار کیا گیا کہ پھر وہ رقم سپریم کورٹ کو کیوں ملی؟

فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ بحریہ ٹاؤن میں ملک ریاض پر جرمانہ عائد ہوا تھا ،علی ریاض اور این سی اے میں طے پایا کہ وہ پاکستان کو رقم واپس کر دیتے ہیں۔ اس معاہدے میں نہ حکومت شامل تھی نہ سپریم کورٹ۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم پاکستان بھجوا دیتے ہیں لیکن معاہدے پبلک نہ کیا جائے۔

فواد چوہدری سے سوال ہوا کہ پھرمعاہدے میں حکومت کہاں سے آ گئی؟حکومت اس پرائیویٹ معاہدے کی پابند ہے؟ اپ نے عوام کا پیسہ سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے جرمانے کے طور پر کیوں جمع کرایا؟

فواد چوہدری نے کہا یہ رقم ملک ریاض کو ملی۔ سوال ہوا کہ کیا این سی اے کے معاہدے میں سپریم کورٹ کا ذکر تھا؟

فواد چوہدری نے کہا کہ میں نے وہ معاہدہ نہیں دیکھا۔ کابینہ نے معاہدہ نہیں دیکھا؟ وہ سیل بند تھا۔بغیر دیکھے کیسے سیل کیا گیا؟عمران خان کا کیا ذاتی مفاد ہے؟

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران کا یہی مفاد تھا کہ یہ رقم پاکستان کوملنی ہے۔ سوال ہوا کہ یہ پیسہ تو پاکستان کو تو ملا ہی نہیں؟

فواد چوہدری نے کہا کہ پیسے حکومت کو نہیں ملے لیکن سپریم کورٹ کو تو مل گئے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے