شہباز گل نے وہی کہا جو سپریم کورٹ کے ججوں نے کہا تھا:عمران خان
خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب حکومت میں مجھے صرف اتنی دلچسپی تھی کہ حمزہ شہباز کو نکالا جائے۔شہباز گل کو برہنہ کر کے تشدد کیا گیا۔ ۱۹۷۱ میں عوامی مینڈیٹ تسلیم نہیں گیا گیا جس سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہئے۔
ہفتے کوعمران خان نے بنی گالہ میں ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں سے ملاقات کے دوران شہباز گل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے وہی کہا جو اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے کہا تھا تو پھر ججوں کو بھی گرفتار کر لیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز گل پر بہت ظلم اس کیا گیا،اسے برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اگر اس پر بات کا مقدمہ بنانا ہے تو پھر ان ججز پر بھی مقدمہ بنائیں جنہوں نے اصغر خان کیس کا فیصلہ جاری کیا تھا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز گل کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کا مقصد خوف پھیلانا ہے، لوگوں کو ڈرانا ہے، دہشت پھیلانی ہے۔ یہ تیار تھے کہ یہ کوئی غلطی کریں اور اس کو پکڑ کر ماریں۔
انہوں نے کہا کہ فوج کبھی ملک کو اکھٹا نہیں رکھ سکتی،ایک قومی جماعت ہی ملک کو اکھٹا رکھتی ہے۔ اگر فوج ملک کو اکھٹا رکھ سکتی تو مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا۔
عمران خان نے کہا کہ 1971 میں فوج نے الیکشن کروائے اور مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور آخرکار ملک ٹوٹ گیا۔
عمران خان نے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر بحران بن جاتا ہے۔آرمی کے اندر میرٹ ہونا چاہئے اور میرٹ کے تحت ہی آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہئے۔اب ملک کو سوچنا چاہئے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملہ کوئی حل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ،مجھے اتنی ہی دلچسپی تھی کہ حمزہ کو نکالا جائے کیوںکہ وہ ہمارے لوگوں کو پکڑ رہا تھا، ابھی ہم پولیس کے ٹرانسفر کرنے لگے تو بتایا گیا کہ چڑیا گھر سے فون آگیا ہے ٹرانسفر نہیں ہوں گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ نیوٹرلز نے فیصلہ کرنا ہے کہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا چوروں کے ساتھ۔ میرا صرف ایک ہی مطالبہ ہے فوری صاف شفاف انتخِات کروائیں جائیں۔

