دھمکیوں پر عمران خان کے خلاف مقدمے کا قانونی جائزہ: وزیر داخلہ
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عدالتی و پولیس افسران کو دھمکیوں پر عمران خان کے خلاف مقدمے کے اندراج کا قانونی پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ راناثناءاللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پچھلے 10 دنوں سے شہباز گل کے معاملے پر تماشہ لگایا ہوا ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے افسوسناک مہم چلائی، مہم میں شہداء کے خلاف باتیں کی گئیں۔
وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں چلنے والی اس مہم نے شہداء کے خاندانوں کو بھی تکلیف دی، عمران خان نے شہداء کے تقدس کو پامال کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران نیازی نے پاکستان پر وہ الزامات لگائے ہیں جو دشمن ملک بھی نہیں لگاتے، پی ٹی آئی کا بیانیہ ملک دشمن ایجنڈا ہے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق شہباز گل کی اے آر وائی کھ پروگرام میں گفتگو طے شدہ تھی، شہباز گل نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر عمران خان کے بیانیے کو بیان کیا،
شہباز گل کا بیان پی ٹی آئی اور عمران خان کا بیانیہ ہے،
شہباز گل نے قومی اداروں کے اہلکاروں اور افسران کو اکسایا۔
وزیر داخلہ کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے 10گھنٹے کے اندر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ شہباز گل منصوبے کے تحت اداروں کے خلاف بیان دیا، گھناؤنی سازش اور بیانیے کو ریاست قبول نہیں کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد کی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کو اپنا کیا یاد نہیں، وزیر داخلہ کی حیثیت سے تصدیق کرتا ہوں کہ شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پوری ذمہ داری سے شہباز گل پر تشدد کی تردید کرتا ہوں، مسلم لیگ ن کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتی۔
وزیر داخلہ کے مطابق عمران خان کے دور میں سیاسی مخالفین نے جیلوں اور تشدد کا سامنا کیا، وزیرداخلہ
عمران خان کو اپنے ماضی کے رویوں پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

