پاکستان

148 پاکستانی طلبہ سکالر شپ پرحصولِ تعلیم کے لیے ہنگری روانہ

اگست 26, 2022

148 پاکستانی طلبہ سکالر شپ پرحصولِ تعلیم کے لیے ہنگری روانہ

پاکستان کے 148 طلباء ہنگری کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوں گے۔

جمعےُکو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے اسٹیپینڈیم ہنگریکم اسکالرشپ پروگرام کے تحت اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء کو اسناد دینے کے لیے الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر شائستہ سہیل اور ہنگری سفارت خانہ کے چارج ڈی افیئرز مسٹر تیوادار تاکاکس نے شرکت کی۔

تقریب میں بڑی تعداد میں وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران، سابقہ طلباء اور اسکالرشپ ایوارڈ یافتہ طلباء کے والدین بھی موجود تھے۔

اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر تعلیم رانا تنویر نے کہا کہ یہ طلباء کیلئے اپنے علم و ہنر میں اضافہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوانے کا ایک بہترین موقع ہے ۔

انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مطالعاتی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ہنگری کے مابین ہم آہنگی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسکالرشپ کا یہ موقع طلباء پر محنت کرنے اور پاکستان کی بہتر طور پر خدمت کرنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان اسٹیپینڈیم ہنگریکم اسکالرشپس جیسے پروگراموں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے پاکستانی طلباء کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہنگری کی حکومت کے تعاون کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ نوبل انعام یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد ہنگری کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے جو کہ پاکستان کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مستحکم کرنے کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے فکری محرک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگری کی یونیورسٹیاں پاکستانی طلباء کا خیرمقدم کرتی ہیں کیونکہ اس کی تعلیمی پالیسی جامع اور وسیع ہے۔ انہوں نے ہنگری کی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی طلباء کے لیے سکالرشپس کی تعداد میں اضافہ کرے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ اپنی توانائیاں مثالی تعلیمی کارکردگی اور کردار سازی پر بروئے کار لائیں اور ہنگری میں پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر شائستہ سہیل نے اسکالرشپ پروگرام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان سکالرشپس کا آغاز 2015 میں 80 اسکالرشپس کے ساتھ کیا گیا، جنہیں 2017 میں ہر سال 200 تک بڑھا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہنگری کی حکومت نے اس پروگرام کو جاری رکھنے میں گہری دلچسپی اور تعاون کا اظہار کیا ہے اور 2023سے2025 تک اگلے تین سالوں کے لیے سالانہ 200 اسکالرشپس دینے کیلئے معاہدے میں توسیع کر دی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ2016 سے 2021 تک 565 بیچلرز، 161 ماسٹرز اور 46 پی ایچ ڈی اسکالرشپس سمیت کل 772 اسکالرشپس کو ہنگری میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالر شپس دی گئی اور اس سال کل 148 طلباء ہنگری میں تعلیم حاصل کرنے جا رہے ہیں، جن میں 111 انڈر گریجویٹ، 28 ماسٹرز اور 9 پی ایچ ڈی شامل ہیں۔ اس طرح سے مستفید ہونے والوں کی کل تعداد 920 ہو جائے گی۔

چارج ڈی افیئرز مسٹر تیوادار تاکاکس نے ہنگری کے لیے روانہ ہونے والے طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ہنگری کا تعلیمی نظام ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کوئی غیر متوقع رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہنگری جانے والے طلباء میں بڑی صلاحیت ہے کیونکہ انہیں درخواست دہندگان کی ایک بہت بڑی تعداد میں سے منتخب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ پروگرام پاکستان اور ہنگری کے تعلقات میں طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان ہنگری ایلومنائی نیٹ ورک میں شامل ہوں تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

اسکالرشپ پروگرام کی سابق طالبہ ماریہ اختر نے بھی اسکالرشپ حاصل کرنے والوں کے ساتھ اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے