وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج
پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نےوزیراعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں یہ درخواست زیر سماعت ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء معاملہ سننا اس عدالت کا اختیار نہیں ہے۔
قبل ازیں ن لیگ کے سابق ایم این اے سید ظفر علی شاہ نے نواز شریف کی واپسی متعلق حلفیہ بیان کی خلاف ورزی پر شھباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی،
درخواست میں کہا گیا ہے کہ شھباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست کے ذریعے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی استدعا کی تھی اور ساتھ ہی عمران خان حکومت کو بھی ایک درخواست دی، جس پر عمران خان حکومت نے ۲۵ ملین ڈالر کی ادائیگی کی شرط لگائی جو لاہور ہائی کورٹ نے ختم کر دی،
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ نواز شریف کا نام وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے پوچھے بغیر نکالا تھا ایک ایسے وقت میں جب نواز شریف کی سزاؤں کیخلاف اپیلیں یہاں زیر سماعت تھی۔
ایڈوکیٹ ظفر علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت (عمران خان حکومت) نے رقم کی واپسی کی شرط لگائی تو ۱۶ نومبر ۲۰۱۹ کو لاہور ہائی کورٹ رات کو ایک حکم جاری کرتی ہے جسکے تحت نواز شریف اور شھباز شریف نے ایک حلفیہ بیان دیا کہ وہ واپس آ جائینگے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کا حکم ایک عبوری حکم نہیں تھا؟ اور کیا اصل درخواست ابھی بھی لاہور ہائی کورٹ کے سامنے زیر سماعت نہیں ہے؟ اور کیا لاہور ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم کو اس وقت کی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا؟ بظاہر اس حکومت نے اس عبوری حکم کو تسلیم کر لیا اور یہ معاملہ ابھی بھی لاہور ہائی کورٹ کے سامنے ہے تو کیا اسلام آباد ہائی کورٹ یہ معاملہ سن سکتی ہے؟ کیا ایسا کر کے یہ عدالت لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو تبدیل کر سکے گی؟
ایڈوکیٹ ظفر علی شاہ نے کہا کہ توہین عدالت کی کاروائی کر سکتی ہے، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے،
ایڈوکیٹ ظفر علی شاہ نے چند سال پہلے ن لیگ کو خیر آباد کہہ دیا تھا اور اب وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔

