عمران خان توہین عدالت کیس، کمرہ عدالت میں کیا ہوا؟
Reading Time: 2 minutesمطیع اللہ جان . اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ توقع تھی کہ ہائی کورٹ آنے سے پہلے عمران خان مقامی عدالتوں میں ہو کر آئیں گے۔
مجھے توقع تھی کہ عمران خان غلطی تسلیم کریں گے لیکن آپ کے جواب میں یہ چیز نہیں تھی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گذرا ہوا وقت اور زبان سے نکلی بات واپس نہیں آتی، ایک عمران خان کے رتبے کا سیاسی لیڈر اس کا ایک ایک لفظ اہم ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے لیڈر کی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ بھی کسی کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اس عدالت نے پہلی بار ٹارچر کے مسئلے کو اٹھایا، شھریوں کا لاپتا ہونا بدترین ٹارچر ہے.
اسد طور، ابصار عالم کے مقدمات بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ میں درج ہیں، کاش اس وقت ٹارچر پر اسی جذبے سے کاروائی ہوتی تو نہ شھری لاپتہ ہوتے اور نہ تھانے میں کسی کو ٹارچر ہوتا.
حامد خان سے کہا کہ آپ کے موکل کا احساس نہیں ہے کہ اصل میں ہوا کیا ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم نے عدالتوں کے رات کو کھلنے پر مناسب الفاظ میں تنقید کی تھی.
چیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ دوبارہ سوچ کر مناسب جواب دائر کریں۔
وکیل حامد خان نے نئے جواب کی حامی بھری تو عدالت سات دن کی مہلت دے دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مطیع اللہ جان یہاں کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ آپ ہمیں الزام دیتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ 130 ویں نمبر پر ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ایک کیس میں فواد چودھری کو بتایا کہ وہ نمبر عدلیہ کا نہیں، ایگزیکٹو کا تھا.
چیف جسٹس نے وفاق کے نمائندے کو ہدایت آپ بھی بغاوت اور غداری کے کیسز پر نظرثانی کریں.
عدالت پر اعتراض اٹھانے والے پیراگراف کی نشاندہی کرنے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل حامد خان سے کہا کہ تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے۔ دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے دیکھ لیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں عدلیہ کی آزادی اور عوام پر ڈسٹرکٹ کورٹس پر اعتماد کا بھی معاملہ شامل ہے، اس عدالت کا صرف کنسرن عدلیہ کی آزادی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے وکیل کو سپریم کورٹ کے تین فیصلے پڑھنے کی ہدایت کی۔
دانیال عزیز ، نہال ہاشمی اور طلال چوہدری کے فیصلے پڑھیں۔ آپ نے جو بھی لکھ کر دینا ہے سوچ سمجھ کر لکھیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس معاملے کی سنگینی کا بھی اندازہ لگائیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی آج ختم ہو سکتی تھی مگر اس جواب کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ آپ کو جواب داخل کرانے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے، آپ اس پر سوچیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ بتائیں کہ کیا اس کیس میں کسی کو عدالتی معاون بھی مقرر کریں۔