توہین عدالت، عمران خان کو تحریری جواب دینے کا ایک اور موقع
پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج کو دھمکی کے معاملے میں توہین عدالت کے کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کے کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہو گئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔
عمران خان کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ عمران خان کے وکیل کے ساتھ اس کورٹ کے معاون بھی ہیں، آپ نے جو تحریری جواب جمع کرایا اس کی توقع نہیں تھی، یہ کورٹ توقع کرتی تھی آپ ادھر آنے سے پہلے عدلیہ کا اعتماد بڑھائیں گے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو قانون اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنا چاہیے، تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا، ماتحت عدلیہ جن حالات میں رہ رہی ہے، اس کورٹ کی کاوشوں سےجوڈیشل کمپلیکس بن رہا ہے، عمران خان نے ہماری بات سنی اور جوڈیشل کمپلیکس تعمیر ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ عمران خان کی کافی فین فالوونگ ہے، عمران خان کے پائے کے لیڈر کو ہر لفظ سو چ سمجھ کر ادا کرنا چاہیے، میں توقع کر رہا تھا کہ احساس ہوگا کہ غلطی ہوگئی، جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح زبان سے نکلی بات واپس نہیں جاتی۔
ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے عدالت میں کچھ کہنا چاہا تو عدالت نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مبینہ توہین عدالت کرنے والے اور عدلیہ کے درمیان ہے۔
عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ جوڈیشل افسر کے بارے میں ایسا کہیں۔ عدالت سے گزارش ہے کہ عمران خان کے ان ریمارکس میں کوئی بدنیتی نہیں تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم توہین عدالت کی کارروائی کو غلط طور استعمال نہیں ہونے دیں گے،اس میں آذادی اظہار رائے کا بھی معاملہ ہے۔
جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی آج ختم ہو سکتی تھی مگر اس جواب سے ایسا نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اس جواب سے افسوس ہوا،آپ کو معاملے کی سنگینی کا علم نہیں ہے۔

