کب تک آئی ایم ایف کے قرضوں سے چولہا جلے گا؟
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آئندہ برس بھی مہنگائی کی شرح برقرار رہے گی جس کے باعث ملک میں مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں،جس کے بعد عوامی سطح پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں سوال یہ ہے کہ کب تک آئی ایم ایف کے قرضوں سے چولہا جلے گا؟
پاکستان میں ہر حکمران بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن برسراقتدار آنے کے بعد ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے پھنساتے اور پھر طرح طرح کی کہانیاں سناتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ و سابق وزیراعظم جب برسراقتدار نہیں آئے تھے تو عوام سے کہتے تھے کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو مر جائیں گے لیکن آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیں گے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف مزید قرضہ لیا بلکہ عوام کو یہ بتاتے رہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر ان کی غلطی تھی۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی قرضے لے کر ملک چلایا جاتا رہا اور عوام کا خون نچوڑنے کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف فرماتے ہیں کہ چھینکنے کے لئے بھی آئی ایم ایف سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کا طوفان جاری ہے۔ ظاہر ہے کڑی شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرضے لئے جائیں گے تو عوام کا کچومر تو نکلے گا۔
عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں آمریت ہو یا کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو اس میں ہمارے وزرائے خزانہ درحقیقت آئی ایم ایف کے ریکوری افسر ہوتے ہیں،جو ذیادہ سے ذیادہ ٹیکس لگاتے، مہنگائی میں اضافہ کرتے،غریب عوام کاخون نچوڑنے اور ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ میں پھنسانے کی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔
کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔کب تک قرض لے کر ملک چلایا جاتا رہے گا؟ہر آنے والا حکمران نئی کہانیاں سناتا ہے لیکن عوام کی زندگی بد سے بدتر ہو رہی ہے اور اب ناقابل برداشت مہنگائی سے ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
ایک شخص کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں قرض کی بیماری بہت پرانی ہے،اپنی دلیل کے جواز میں اس نے سید ضمیر جعفری کا ایک شعر سنا دیا۔
سر اٹھائیں کیا کہ گردن قرض کے کالر میں ہے
تھی سٹرلنگ میں کبھی جو آج کل ڈالر میں ہے

