سیلاب کی تباہ کاریاں،متاثرین کی امدادی رقم میں 42 ارب کا اضافہ
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافے کو مدِنظر رکھتے ہوئے بذریعہ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام تقسیم کی جانے والی 28 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 70 ارب روپے کرنے کی منظوری دے دی۔
منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں سیلاب اور اُس سے ہونے والی تباہی کی موجودہ صورتحال اور وفاقی اور صوبائی محکموں کی طرف سے جاری ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر مفصل بریفنگ دی۔
کابینہ کو بتایا گیاکہ حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے جس میں سندھ اور بلوچستان بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔جن میں 81 اضلاع کی 6615 یونین کونسلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ان میں بلوچستان کے 32 سندھ کے 23 خیبر پختونخواہ کے 17، گلگت بلتستان کے 6 اور پنجاب کے 3 اضلاع شامل ہیں۔
14 جون سے اب تک پورے پاکستان میں پچھلے تیس سال کی نسبت 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، جبکہ سندھ میں اس کی شرح 465 فیصد اور بلوچستان میں 437 فیصد رہی ہے۔
وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ لقمہ اجل بنے۔ جن میں سندھ کے 522، خیبرپختونخواہ کے 289، بلوچستان کے 260، پنجاب کے 189، آزاد جموّں کشمیر کے 42 گلگت بلتستان کے 22 افرادشامل ہیں۔
مجموعی طور پر پورے ملک میں اب تک 12 ہزار 703 لوگ زخمی ہوئے جن میں سندھ کے 8321، پنجاب کے 3844، خیبرپختونخواہ کے 348، بلوچستان کے 164، آزاد جموں و کشمیر کے 21 اور گلگت بلتستان کے 5 افراد شامل ہیں۔
حالیہ تاریخی مون سون بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں 16 لاکھ 88 ہزار گھر، 246 رابطہ پُل، 5 ہزار 735 کلومیٹر پر محیط سڑکیں اور 7 لاکھ 50 ہزار مویشی سیلابی ریلوں کی نذ رہوئے۔
وزیراعظم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض علاقوں جیسے سوات میں انسانی غفلت کے باعث تباہی آئی جہاں River Bed میں غیر قانونی طور پر ہوٹل تعمیر کیے گئے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی وہRiver Bed میں زمین کے استعمال سے متعلق زوننگ قوانین و ضوابط پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی تباہی سے بچا جاسکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایسے معاملات پر سیاست بازی سے گریز کرنا چاہیے۔
چند روز پہلے سیلاب زدگان کے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے وزیراعظم نے نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کوارڈینیشن سینٹر(NFRCC) قائم کیا تھا۔
این ایف آر سی سی کے حکام نے کابینہ کو بتایا کہ اندازے کے مطابق ملک بھر میں زیرِ آب رقبے کا 80 سے 90 فیصد گندم کی کاشت کے لیے موزوں بنایا جاسکے گا، بصورتِ دیگر ملک میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم نے بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے12 لاکھ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں ترجیحی بنیادوں پر 25 ہزار روپے فی خاندان فلڈ ریلیف کیش کی تقسیم یقینی بنانے کا اہتمام کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم نے ابتدائی طور پر 28 ارب روپے مختص کیے۔ اب تک 20 ارب روپے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ بقیہ 8 ارب روپے اگلے تین دنوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اس فلڈ ریلیف کیش کا 55 فیصد بلوچستان میں تقسیم کیا گیا ہے۔
سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافے کو مدِنظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے BISP کے ذریعے تقسیم کی جانے والی 28 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 70 ارب روپے کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے اس رقم کو شفاف طریقے سے سیلاب زدگان تک پہنچانے کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔
وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سندھ کو 15 ارب روپے، بلوچستان کو 10 ارب روپے، خیبرپختونخواہ کو10 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کو 3 ارب روپے کی مالی امداد دینے کا بھی اعلان کررکھا ہے۔
وفاقی حکومت این ڈی ایم اے کے ذریعے سیلاب میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 لاکھ فی کس کی مالی امداد بھی مہیا کردی ہے۔
وزیراعظم نے وزیراطلاعات و نشریات، مریم اورنگزیب اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کی کاوشوں کو سراہا۔جنہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں ملکی اور عالمی سطح پر میڈیاپر موثر انداز سے آگاہی مہم چلائی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے نکاسی آب کا موثر نظام اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر ناگزیر ہے۔
وزیرِ ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان ریلوے کی چاروں لائینز سیلابی ریلے سے بُری طرح متاثر ہوئی ہیں اورکوئٹہ۔سبی سیکشن میں ایک رابطہ پُل تباہ ہونے کی وجہ سے ریلوے کے آپریشنز تاحال بند ہیں۔
وزیرِ توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کابینہ کو بتایا کہ بلوچستان کی810 میگا واٹ کی تین بڑی بجلی کی ٹرانسمیشن لائینز میں سے دو بحال کردی گئی ہیں۔ وزارتِ توانائی نے کابینہ کو بتایا کہ ملک بھر میں صرف وہ ہی گرڈ اسٹیشنز بند ہیں جو ابھی تک زِیر آب ہیں۔
اِس موقع پر وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے بارے کابینہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اُن کو یقین دہانی کرائی کہ NDMA اور PDMAs کے باہمی رابطے اور تعاون سے صوبائی حکومتوں کو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے اور مچھر دانیاں ترجیحی بنیادوں پر مہیا کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے اس سلسلے میں NDMA او رتمام پارٹیوں کے نمائندگان کا ہنگامی اجلاس کل طلب کرلیا۔
وزیراعظم نے وزیر منصوبہ بندی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو فوری کراچی روانہ ہونے کا حکم دیا تاکہ سندھ کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔ کیونکہ سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔
اس سلسلے میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے کابینہ کو بتایا کہ اب تک سندھ میں 24ہزار خیمے مہیا کیے جاچکے ہیں۔
وزیراعظم نے عالمی برادری خاص طور پر چین، ترکی، متحدہ عرب امارات، جاپان، ازبکستان، قطر، فرانس اور ترکمانستان کے ساتھ ساتھUNICEFاور UNHCR کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پاکستان پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 5 کروڑ ڈالر کا امدادی سامان بھیجا ہے۔ ترکی کی جانب سے ضروری امدادی سامان کی پہلی کھیپ دو دن قبل موصول ہوئی۔ چین نے اپنی امدادی رقم میں 40 کروڑ RMB کا اضافہ کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے امدادی رقم کو 15 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ 50 لاکھ پاونڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے 3 کروڑ ڈالر اور پرنس آغا خان نے 1 کروڑ ڈالرکی امداد کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب امدادی پروگرام کا آغاز کررہا ہے۔ جبکہ قطری امیر اور اماراتی صدر نے ہر قسم کی مدد کا وعدہ کیاہے۔ ورلڈ بینک(WB)، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور جائیکا(JAICA) پاکستان کو اس آفت سے نمٹنے کے لیے امداد مہیا کررہے ہیں۔
2010 کے سیلاب کے دوران اعلیٰ غیر ملکی شخصیات نے پاکستان کا دورہ کیا اور سیلاب زدگان کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال اُس سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اس لیے میں ہر روز ذاتی طور پر اعلیٰ غیر ملکی شخصیات کو دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنے پر قائل کررہا ہوں۔ کیونکہ ہم سب مل کر ہی اس آفت پر قابو پاسکتے ہیں۔ آئیے ہم اس چیلنج کو قبول کریں اور اپنے دُکھی ہم وطنو کی بحالی اور خدمت میں جُت جائیں۔
وزیراعظم نے اس موقع پر غیر ملکی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرکے اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی۔وزیراعظم نے پاکستانی مخیر حضرات اور پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ICCI) اور ملک کے دیگر چیمبر آف انڈسٹریز کا بھی شکریہ ادا کیا جو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وزیرِ اعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں کے باعث پاکستا ن بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا کام ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
وزیراعظم نے اس سلسلے میں قومی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جنہو ں نے دنیا بھر کو پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی اصل صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا۔

