پاکستان

فوج اور عدلیہ کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہا: عمران خان کی جلسے میں وضاحت

ستمبر 6, 2022

فوج اور عدلیہ کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہا: عمران خان کی جلسے میں وضاحت

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ فوج پر تعمیری تنقید کرتے ہیں اور آرمی چیف کے تقرر پر کوئی غلط بات نہیں کی۔

منگل کو پشاور میں جلسہ عام سے خطاب میں عمران خان نے فوج اور عدلیہ پر اپنے تنقیدی بیانات کی تفصیلی وضاحتیں پیش کیں۔

اُن کا حکومتی اتحادی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’یہ ٹولہ سازش کر رہا ہے کہ کسی طرح ہمیں فوج سے لڑایا جائے۔ ان کا پروپیگنڈا سیل سازش کر رہا ہے کہ کسی طرح چیزوں کو توڑ مروڑ کر ہمیں عدلیہ اور فوج سے لڑایا جائے۔‘

عمران خان کے الفاظ تھے کہ ”میں نے پرسوں کیا کہا تھا کہ فوج کے سربراہ کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے۔ یہ دنیا کا اصول ہے کہ ملک چلانا ہے، فیکٹری چلانی ہے یا کوئی اور، میرٹ پر سلیکشن ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس میں کیا غلط ہے۔ دوسری بات میں نے یہ کی کہ کسی طرح ان دو ڈاکوؤں نواز شریف اور آصف زرداری کو آرمی چیف کی سلیکشن نہیں کرنی چاہیے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’میں نے سب کو وہ مراسلہ دکھایا کہ اسد مجید کو امریکہ کے انڈر سیکریٹری دھمکی دے رہا ہے کہ عمران خان کو ہٹایا جائے۔‘
’اس کے بعد ہماری حکومت کو ہٹایا گیا تو میرا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو باہر سے مسلط کیا گیا کیا ان کو آرمی چیف کا تقرر کرنا چاہیے؟ اس پر کہتے ہیں کہ عمران خان فوج کے خلاف بات کر رہے ہیں۔‘

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ ہماری حکومت اس لیے گرانا چاہتے تھے کہ عمران خان ہمارا احتساب نہ کرے اور ہماری چوری نہ پکڑے۔‘
مسلم لیگ ن کے لیڈروں کی مختلف ویڈیوز چلوا کر عمران خان نے حاضرین سے کہا کہ ’اب ن لیگ ہمارے خلاف بیان بازی کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی فوج کے خلاف بات کر رہی ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج مضبوط ہو۔ کبھی تنقید کرتے بھی ہیں تو تعمیری تنقید کرتے ہیں اس کی بہتری کے لیے کرتے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج مضبوط ہو۔ کبھی تنقید کرتے بھی ہیں تو تعمیری تنقید کرتے ہیں اس کی بہتری کے لیے کرتے ہیں۔‘

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ن لیگ جس طرح چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو ٹارگٹ کر رہی ہے اس طرح ہم نے کبھی اپنی پارٹی کو اجازت نہیں دی۔‘

’ہم عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔ ایک مجسٹریٹ زیبا کے خلاف کوئی سخت زبان استعمال کی تو اس کی وجہ تھی کیونکہ شہباز گل کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا۔ میں کبھی عدلیہ کو دھمکی دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے