بلوچ طلبہ کے لیے قائم کمیشن کا اجلاس نہ ہونے پر چیف جسٹس پھر برہم
اسلام آباد (۷ ستمبر ۲۰۲۲)
پاکستان کی اسلام آباد ہائیُکورٹ نے بلوچ طالب علموں کو حراساں کیے جانے کے کیس میں اٹارنی جنرلُ اشتر اوصاف کو دو ہفتے میں متعلقہ کمیشن کے اراکین سے رابطے کے بعد ٹھوس اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بلوچ طلبا کو حراساں کیے جانے اور انکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف ایڈوکیٹ ایمان مزاری کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی،جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔
وزارت انسانی حقوق کی نمائندہ افسر کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ مزکورہ کمیشن کا اجلاس نہیں ہو سکا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اجلاس نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا اس سے زیادہ اہم بات کوئی ہو سکتی ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر چئیرمین سینٹ سے بات کرینگے، جو بلوچ طالب علموں سے متعلق کمیشن کے سربراہ ہیں۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ حکومت نے انکے خطوط تک کا جواب نہیں دیا جن میں تیس سے زائد بلوچ طالب علموں کا معاملہ اٹھایا گیا تھا،۱۷ سالہ فیروز بلوچ لاپتہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا یہ کون لوگ ہیں جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ بلوچ طالب علموں کے معاملے سے بڑھ کر اور کوئی ایشو بڑا نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ بلوچستان میں ھزارہ کے لوگوں کا بھی بہت بڑا ایشو ہے جسکو حکومت دیکھ رہی ہے، یہ چالیس سال سے حل طلب معاملات ہیں۔ بلوچ طالب علموں کے معاملے میں چئیرمین سینٹ تین بار اجلاس بلا کر بھی اجلاس نہیں کر سکے، میں اس بارے میں آپکو آگاہ کرونگا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر حکومت پر لسانی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا الزام ہے تو پھر اس سے بڑا ایشو کیا ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے بلوچ طلبا متعلق بنائے گئے عدالتی کمیشن میں شامل سیاسی شخصیات کا حوالہ دے کر کہا کہ اگر ان سیاسی جماعتوں کی یہ پہلی ترجیح ہوتی تو یہ معاملہ نہ ہوتا، کیا کسی سیاسی جماعت نے چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کو کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ معلوم کر کے بتائینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت بلوچ طالب علموں کو کمرہ عدالت سے مایوس ہو کر جانے نہیں دے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بلوچ سٹوڈنٹس کو حراساں کیے جانے کے خلاف طالب علموں کی درخواست پر چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا تھا جس نے آج کی تاریخ میں اپنی رپورٹ جمع کرانی تھی، ۲۸ اپریل کو تشکیل دیے گئے کمیشن کے اراکین میں رضا ربانی، افراسیاب خٹک، اسد عمر، کامران مرتضی، علی احمد کرد، ناصر کھوسہ، مشاہد حسین سید، نائب چئیرمین پاکستان بار کونسل، سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری وزارتِ انسانی حقوق شامل ہیں، تاہم کمیشن کا آج تک کوئی اجلاس نہ ہو سکا۔
عدالت نے ۲۸ اپریل کے حکمنامے میں وفاقی سیکریٹری دفاع سے بھی جواب طلب کیا تھا کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بلوچ طلبا کو سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کیوں حراساں کیا جا رہا ہے اور انکو لسانی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے، وزارت دفاع کی طرف سے بھی کوئی جواب دائر نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کمیشن کو اجلاس بلا کر بلوچ طالب علموں کی شکایات کا ازالہ کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے کیس کی سماعت ۲۱ ستمبر ۲۰۲۲ تک ملتوی کر دی۔

