پاکستان

خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان جے آئی ٹی کے روبرو پیش،20 منٹ تفتیش

ستمبر 14, 2022

خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان جے آئی ٹی کے روبرو پیش،20 منٹ تفتیش

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں جے آئی ٹی کے روبرو تفتیش کے لیے پیش ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس ٹیم نے سابق وزیراعظم کو تحریری طور پر 21 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا ،پولیس کی جانب سے زبانی سوالات بھی کیے گئے۔ عمران خان سے تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں تقریباً 20 منٹ تک تفتیش کی۔

عمران خان نے بیان میں کہا کہ شہباز گل پر تشدد کے حوالے سے اپنی تقریر میں کوئی دہشت گردی نہیں کی۔ ایف نائن پارک میں جو تقریر کی، وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ۔ اپنی تقریر میں قانونی ایکشن لینے کی بات کی، کوئی دھمکی نہیں دی۔

عمران خان نے تحریری بیان جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی تفتیشی ونگ رخسار مہدی کے حوالے کیا۔ بیان میں عمران خان نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے خلاف امپورٹڈ حکومت کے دباؤ پر پولیس نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا۔

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے تحکمانہ انداز میں پولیس افسران اور ماتحت عدلیہ کی جج صاحبہ کو دھمکا کر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی؟، جس پر سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں، میں اس پورے مقدمے کو انتقامی کارروائی اور جھوٹا سمجھتا ہوں ۔

بعد ازاں سوالوں کا جواب دینے کے بعد عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری آج جے آئی ٹی میں پہلی پیشی ہوئی۔ ساری دنیا کے سامنے یہ مقدمہ مذاق ہے، میرےخلاف دہشت گردی دفعات لگائی گئیں۔ شہباز گل کو اغوا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ حکومت کو پیغام ہے کہ جتنا تنگ کریں گے، اتنی ہی تیاری کریں گے۔ ٹیلی تھون پر فنڈز جمع کرنےتھے، انہوں نے چینلز بند کردیے۔ ان کی چوری کی وجہ سے ان کو پیسے نہیں ملتے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے جواب دیا کہ انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہونے والی ہیں۔ جب میں کال دوں گا، امپورٹڈ حکومت برداشت نہیں کر سکے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے