مریم نواز کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل میں کیا دلائل دیے؟
مطیع اللہ جان۔اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مریم نواز کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل میں اپنے دلائل مکمل کر لئے۔نیب نے دلائل دینے کے لئے وقت مانگ لیا۔
مریم نواز کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے عدالت نے کیلئبری فونٹ کے متعلقہ سال میں دستیاب ہونے سے متعلق محض ایک ایکسپرٹ کی رائے پر فیصلہ سنا دیا گیا جبکہ قانون کے مطابق محض ایکسپرٹ کی رائے پر جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔
انہوں موقف اپنایا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط ایک فریق نے جدًہ میں کیے اور دوسرے نے برطانیہ میں، مریم نواز شریف صرف بیرئیر سرٹیفیکیٹ رکھتی تھی رجسٹرڈ شئیر نہیں۔
امجد پرویز نے کہا کہ جیریمی فری مین نے نیب سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کے سامنے سب فریقین نے دستخط کیے اور یہ الزام بھی نہیں ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط جعلی ہیں۔
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ مریم تو اس ڈیڈ کو تسلیم کرتی ہیں اور اس کو غلط ثابت کرنا نیب کی ذمے داری تھی، آپ دستاویز سے انکاری نہیں اور اگر آپ دستاویز سے انکاری ہوتے تو پھر کیلئبری فونٹ کے اصل یا نقل ہونے کا سوال پیدا ہوتا۔
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ ایک نجی دستاویز تھی جس سے انکار نہیں، استغاثہ کا موقف ہے کہ یہ دستاویز جس سال تیار ہوئی اس سال وہ کیلئبری فونٹ نہیں تھا اور اس حوالے سے جو غیر ملکی ماہر کی رائے ہے اسکو ثبوت بنا دیا اور فونٹ کی کمپنی کو بھی نہیں پوچھا گیا اور جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو اپنے کزن کی فارن لأ فرم کے ذریعے رابرٹ ریڈلے کو رابطہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ واجد ضیا نے بطور سربراہ جے آئی ٹی جو واحد ثبوت اکٹھا کیا وہ فونٹ کے ماہر رابرٹ ریڈلے کی ماہرانہ رائے تھی اور کچھ نہیں ،واجد ضیا نے یہ تک نہیں ریکارڈ پر لایا کہ کیلئبری فونٹ کے جملہ حقوق کس کے پاس ہیں۔
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ غیر ملکی ماہر سے پوچھنے پر اس نے اعتراف کیا کہ کیلئبری فونٹ ٹرسٹ ڈیڈ سے ایک سال پہلے مارکیٹ میں آ چکا تھا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ اگر ٹرسٹ ڈیڈ کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کا کیس پر کیا اثر پڑے گا؟
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ مریم کیخلاف سارا کیس ہی ٹرسٹ ڈیڈ پر بنایا گیا اور مریم نواز نے اس ڈیڈ سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ کوئی اقدام بھی نہیں اٹھایا۔
امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت نے ۲۰۰۶ کی ٹرسٹ ڈیڈ کو استعمال کر کے مریم نواز کو مبینہ طور پر ۱۹۹۶ میں ہونے والے ایک جرم کی پاداش میں سزا سنا دی۔
مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ جب مرکزی ملزم کیخلاف اصل جرم ہی ثابت نہیں ہوا تو پھر اس جرم میں اعانت کی سزا کسی کو کیسے سنائی جا سکتی ہے۔
عدالت کے پوچھنے پر وکیل صفائی نے انکشاف کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی اصل کاپی نیب نے عدالت میں پیش ہی نہیں کی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ٹرسٹ ڈیڈ اصلی کاپی کی صورت عدالت کے ریکارڈ پر ہی نہیں تو پھر سزا کے فیصلے میں اس پر انحصار کیا جا سکتا ہے، جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ آپ نے اس دستاویز کی صحت کو تسلیم کیا، امجد پرویز نے کہا کہ قانون کے مطابق ملزم کے کسی بات کے اعتراف پر سزا نہیں دی جا سکتی اور اعتراف کے باوجود بھی استغاثہ کو ثبوت پیش کرنا لازمی ہوتا ہے، عدالت نے کہا کہ یہ درست ہے کہ محض اعتراف پر ملزم کو سزا نہیں سنائی جاُسکتی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے علاوہ کوئی الزام ہے تو اس پر دلائل دیں۔
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت نے مریم کو آمدن سے زیادہ اثاثوں کے جرم کو چھپانے کے لیے ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے اعانت جرم پر سزا سنائی۔
امجد پرویز ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ہوا بھی ہے تو بھی اعانت کے جرم میں سات سال قید اور تاحیات نااہلی کی سزا کیسے دی جا سکتی ،جب اصل جرم ثابت ہی نہ ہوا ہو تو اعانت کا جرم بھی ثابت نہیں ہوتا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہاں صورت حال ایسی ہے کہ اصل ملزم کے خلاف ہم اپیل سن ہی نہیں رہے جبکہ ہمارے سامنے صرف اعانت کرنے والے کا کیس ہے۔
امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستانی شھری دنیا کے کسی ملک میں بھی ہو اسے پاکستانی قوانین اور آئین کے تحت حقوق حاصل ہیں۔
ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ نیب قوانین میں جو ترامیم لائی گئی ہیں وہ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے عین مطابق لگتی ہیں، اگر ملزم سے جرح کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے بھی تو استغاثہ کی ذمے داری ہے کہ وہ جرم ثابت کرے۔جس مقدمے میں درست ذرائع آمدن کا حساب ہی نہ لگایا گیا ہو اور مبینہ اثاثوں کی خریداری کے وقت انکی کیا قیمت تھی اور ملزم کے ذرائع آمدن کتنے تھے، جب تک ان سوالات کا جواب استغاثہ نہیں دیتا اس وقت تک جرم ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔
نیب قوانین میں ترامیم جو پی ٹی آئی لیکر آئی تھی تو عدالت میں بات ہوئی تھی کہ نیب لا میں اہم ترین جرم بدعنوانی اور بدعنوان اقدامات کا تعلق اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی فائدہ اٹھانے سے ہونا چاہئیے۔
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ سرکاری افسران کہی بار کرپشن نہ ہوتے ہوئے بھی محض غلط فیصلوں پر بھی سزا وار ٹھہرائے جاتے رہے۔
مریم نوا زکے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز نے سزا کے خلاف اپیل میں اپنے دلائل ململ کر لیے۔
ںیب نے دلائل کے لئیے وقت مانگ لیا، ایڈوکیٹ مظفر عباسی نے ایک ہفتے کا ٹائم مانگا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت � ۲۰ستمبر تک ملتوی کر دی۔

