پاکستان

سابق جج راناشمیم کی تیسرے حلفیہ بیان میں پہلے حلفیہ بیان پر معافی

ستمبر 19, 2022

سابق جج راناشمیم کی تیسرے حلفیہ بیان میں پہلے حلفیہ بیان پر معافی

اسلام آباد (۱۹ ستمبر ۲۰۲۲)
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق جج رانا شمیم کیخلاف توہینِ عدالت کی کاروائی میں جمع کرائے گئے حلف نامے کو بظاہر قابل قبول قرار دیتے ہوئے، اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی میں کاروائی آئیندہ سماعت کے لیے موخر کردی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ عدالت واضح کر دینا چاہتی ہے کہ یہ حلفیہ بیان بغیر کسی دباؤ کے رضا کارانہ طور پر دیا گیا ہے، حالانکہ پہلے حلفیہ بیان کے بعد یہ حلفیہ بیان جعل سازی میں بھی آتا ہے مگر ہم توہین عدالت میں اس پرکاروائی نہیں کریں گے۔

سابق جج رانا شمیم نے لندن میں رجسٹر کرائے ایک خفیہ حلف نامے میں الزام لگایا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انکے اور انکی مرحومہ اہلیہ کے سامنے اسلام آباد ہائیُکورٹ کے ایک جج جسٹس عامر فاروق کو ٹیلی فون پر ہدایت دی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ۲۰۱۸ کے الیکشن سے پہلے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

اسکے بعد توہین عدالت میں رانا شمیم پر فرد جرم عائد کی گئی تو رانا شمیم نے دوسرا حلف نامہ جمع کرادیا کہ جسٹس عامر فاروق نہیں اسی عدالت کے ایک سینیر ترین جج کو وہ ھدایات دی گئی تھی مگر دوسرا حلف نامہ بھی مستعد ہونے کے بعد اب تیسرا حلف نامہ بظاہر عدالت نے قبول کر لیاہے جس میں مکمل حلفیہ بیان واپس لیتے ہوئے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی گئی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے