بہو کا قتل کیس، تجزیہ کار ایاز امیر جسمانی ریمانڈ پر پولیس حراست میں
مبینہ طور پر بیٹے کے ہاتھوں بہو کے قتل کے مقدمے میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تجزیہ کار ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد پولیس نے تجزیہ کار ایاز امیر کو بہو کے قتل کیس میں ڈیوٹی مجسٹریٹ سول جج زاہد ترمزی کی عدالت میں پیش کیا۔
پولیس نے ایاز امیر کو سارہ قتل کیس میں گرفتار کیا تھا
جمعے کے روز ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے مبینہ طور پر سارہ کو قتل کردیا تھا۔
شاہنواز پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے-
پولیس کی جانب سے عدالت میں ایاز امیر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر اُن کے وکیل نے کہا کہ تجزیہ کار مقدمے میں بطور ملزم نامزد نہیں۔
ایاز امیر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے خود پولیس کو اطلاع دی، ایس ایچ او کو فارم ہاوس کا پتا تک میں نے دیا ہے۔
پولیس افسر نے عدالت میں بتایا کہ ملزم ایاز امیر کو شامل تفتیش کرنا ہے جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔
تفتیشی کا کہنا تھا کہ کیس بہت ہائی پروفائل ہے، کینیڈین نژاد پاکستانی خاتون سارہ کو قتل کیا گیا ہے۔
وکیل نے کہا کہ موکل ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں کہ وہ قتل کے وقت موجود تھے۔

