پاکستان

مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہئے:عمران خان

اکتوبر 3, 2022

مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہئے:عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہ ہے کہ ہم سیاسی لوگ اور سیاسی لوگ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرتے۔ مجرموں سے مزاکرات نہیں ہو سکتے۔

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے عمران خان ،اسد عمر اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پہنچے۔

تفصیلات کے مطابق عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے عمران خان نے غیررسمی گفتگو میں متعدد سوالات کا جواب دیا اور بعض سوالات پر عمران خان نے چپ سادھے رکھی یا صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔

صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایک انٹرویو میں طاقتور شخصیت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’جھوٹ میں بولتا نہیں اور سچ میں بول نہیں سکتا۔‘ اگر آپ بھی سچ نہیں بولیں گے تو کون بولے گا؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ ’جب ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ان کا ابھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو اس حوالے سے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہے۔

عمران خان سے استفسار کیا گیا کہ کیا آپ کے طاقت ور حلقوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں تو عمران خان نے جواب دیا کہ ’ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگ مذاکرات کے لیے کبھی دروازے بند نہیں کرتے۔ بالکل ہمارے مذاکرات جاری ہیں۔‘  

جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ سیاسی لوگ آپس میں مذاکرات کی بجائے طاقت ور حلقوں سے ہی مذاکرات کیوں کرتے ہیں تو عمران خان کا کہنا تھا کہ ’سیاست دانوں سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں مجرموں سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘

صحافی نے سوال کیا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مجرم کون ہے اور کون نہیں کیونکہ جن کو آپ مجرم کہتے ہیں، وہ بھی آپ کو مجرم ہی کہتے ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ ’آپ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں۔‘

ایک صحافی نے پوچھا کہ جن کو آپ میر جعفر اور میر صادق کہتے تھے، ان کے ساتھ آپ مذاکرات کر رہے ہیں؟ اس پر عمران خان نے مسکرا کر بات ٹال دی۔  

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ثابت ہو گیا ہے کہ اس ملک میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہے۔‘

صحافی نے کہا کہ آپ کو اتوار کے روز عدالت نے ضمانت دی کیا آپ بھی طاقتور ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ ’میرے اوپر تو اتنے مقدمات بن گئے ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آتا، اب تو یہ ایف آئی آر باقی رہ گئی ہے کہ میں نے چائے میں خشک روٹی ڈبو کر کیوں کھائی تھی۔‘  

دورانِ گفتگو عمران خان نے بتایا کہ سیلاب زدگان کے لیے ٹیلی تھون کے ذریعے جو رقم اکٹھی کی گئی تھی اس کی ہفتے کے روز تقسیم ہونا شروع ہو جائے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے