ادائیگیوں کا توازن، پاکستان کو یقین دہانی کروانا ہو گی: آئی ایم ایف
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو یقین دہانی کروانا ہو گی اس کی ادائیگیوں کے توازن کی کمی کو بقیہ مدت کے لیے فنانس کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف گذشتہ ماہ سے نویں جائزے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، اور اگر اسے بورڈ کی جانب سے منظوری ملتی ہے تو پاکستان کو 2019 میں کیے گئے 6.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت 1.1 ارب ڈالر ملیں گے۔
گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ بیرونی فنانسنگ کی یقین دہانی آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل نہیں ہے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے تمام پروگرامز کے جائزوں کے لیے پختہ اور قابل بھروسہ یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ قرض لینے والے ملک کی بقیہ پروگرام کے لیے ادائیگیوں کے توازن کی مکمل طور فنانسنگ ہوئی ہے۔ پاکستان کو بھی اس سے استثنی حاصل نہیں۔‘

