عورت مارچ، اسلام آباد میں شرکاپر پولیس تشدد کا نوٹس
اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا کو پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چوک جانے سے روکنے کے لیے پریس کلب کے اردگرد کنٹینرز لگا کر سڑک بند کی گئی اور پولیس اہلکاروں نے خواتین کو ڈنڈے بھی مارے۔
اسلام آباد میں ہونے والا مارچ ابتدا میں اس وقت بد نظمی کا شکار ہو گیا جب اس کے شرکاء نے نیشنل پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ڈی چوک کی طرف جانے کی کوشش کی تاہم انتظامیہ نے کنٹینرز لگا کر ان کا رستہ بند کر دیا کیونکہ وہاں اسی وقت جماعت اسلامی کا حیا مارچ ہو رہا تھا۔
ایس پی کے حکم پر خواتین پر کیے تشدد کا نوٹس لیتے ہوئےوزیراعظم کی ہدایت پر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی ہے.
اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے فوری رپورٹ طلب کی۔
بیان کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس واقعہ پر معذرت خواہ ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے ڈی آئی جی آپریشنز کی رپورٹ پر ابتدائی طور پر تین اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں عورت مارچ میں شرکت کے لیے جڑواں شہروں سے خواتین کی ایک بڑی تعداد پریس کلب کے سامنے پہنچی.
مظاہرین اور میڈیا کے اراکین میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی جس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
پولیس کی جانب سے مداخلت کے بعد مارچ دوبارہ پُرامن ہو گیا اور ڈی چوک میں جماعت اسلامی کی ریلی ختم ہونے کے بعد اس کے شرکا کو وہاں جانے کی اجازت دے دی گئی جہاں پر تقاریر کے بعد یہ اختتام پذیر ہو گیا۔

