سپریم کورٹ، جسٹس مظاہر نقوی کے سامنے ٹرکوں کا ذکر
سپریم کورٹ میں پاکستان کسٹمز کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ کے سامنے ٹرکوں کا ذکر آ گیا۔
جمعرات کو عدالت نے فریقین کو پاکستان کسٹمز کے دائرہ اختیار سے متعلق تیاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کسٹمز کے دائرہ اختیار پر ایف بی آر سے بھی معاونت طلب کر لی۔
جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ اگر پولیس کسی کو گرفتار کرتی ہے اور کسٹمز کے حوالے کرتی ہے تو کیا یہ اس کا دائرہ اختیار بنتا ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی، یہ کسٹمز کا دائرہ اختیار بنتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ یہ پاکستان کسٹمز کا دائرہ اختیار کیسے بنتا ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پکڑے گئے کچھ ٹرکوں میں سونا اور چاندی بھی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گولڈ پر پابندی ہے، ایسے سونا درآمد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ ٹرکوں میں جوس بھی لدا ہوا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ اگر ٹرکوں میں موجود جوس مقامی طور پر خریدا گیا ہے تو کسٹمز کیسے روک سکتی ہے؟ پہلے کسٹمز یہ بتائے کہ ہر چیز کو کیسے روک لیتے ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز کا دائرہ اختیار بارڈر ایریاز تک ہے، کسٹمز اپنے ایریاز بتائے ورنہ پورا کراچی ان کے دائرہ اختیار میں آ جائے گا، یہ کل کو میرے گھر میں سے بھی کچھ نکال لیں گے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا کسٹمز دوکان میں موجود سامان پر قبضے میں لینے کا اختیار ہے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ اہم سوال ہے کہ کیا کسٹمز کسی دوکان کا سامان قبضے میں لیکر اس کو سمگلنگ کا مال قرار دے سکتی ہے؟ مارکیٹ میں موجود سامان کا تعین کیسے ہوگا کہ یہ سمگلنگ کا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے ایف بی آر سے بھی معاونت طلب کی ہے۔
جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسٹمز سڑک پر چلتی گاڑی قبضے میں لے سکتی ہے؟ کیا کسٹمز کسی فیکٹری پر چھاپا مار کر سامان قبضے میں لے سکتی ہے؟
کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

