عید کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کیا جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر کے درخواست کی ہے کہ اُن کو عید کی چھٹیوں کے دوران گرفتار کیے جانے کا خدشہ ہے اس لیے عدالت متعلقہ حکام کو ایکشن لینے سے روکے۔
اس سے قبل انہوں نے رمضان کے آغاز پر گرفتار کیے جانے اور قتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
جمعرات کو عمران خان کے وکیل کی استدعا کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تسلیم کیا۔
عمران خان کے وکیل ایڈوکیٹ فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ سراج الحق زمان پارک آئے مذاکرات کی اچھی کاوش ہوئی، مگر اگلی صبح ہم نے دیکھا سندھ کے ہمارے صدر کو اٹھا لیا گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس واقعے سے ظاہر ہے ایک “بیڈ ٹیسٹ” (بدذائقہ/ بد مزہ) ہوا۔
وکیل نے کہا کہ خدشہ ہے عید کی پانچ چھٹیوں میں پھر یہ کوئی آپریشن کریں گے.
چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات کی تفصیلات تو طلب کر سکتا ہوں میں اور کوئی خالی آرڈر کیسے کروں؟
وفاق، پولیس سے 27 اپریل تک عمران خان کے خلاف کیسز کی تفصیل طلب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا عید کی چھٹیوں میں عمران خان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم جاری کیا گیا.

