سرحدوں سے ماورا قتل و جبر کے الزامات، امریکی ماہرین کا انڈین انٹیلی جنس حکام اور سفارتکاروں پر پابندیوں کا مطالبہ
امریکا کے سابق سرکاری عہدیداروں، ماہرینِ تعلیم، مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھارت پر مبینہ سرحد پار جبر (Transnational Repression) کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم کارکنوں، صحافیوں اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واشنگٹن میں کانگریس کے ایک بریفنگ سیشن کے دوران مقررین نے کہا کہ جمہوری ممالک کو سرحدوں سے باہر مخالفین کو خاموش کرانے کی مبینہ کوششوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سابق چیئرمین اسٹیفن شنیک نے کہا کہ انہیں بھارت کی جانب سے مبینہ سرحد پار جبر، خصوصاً بیرونِ ملک رہنے والی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات پر شدید تشویش ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک کی کارروائیاں دوسرے ممالک میں مقیم مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائیں تو یہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
شنیک نے کہا کہ USCIRF نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) سے مبینہ طور پر وابستہ سینئر حکام کے خلاف ہدفی پابندیوں اور ویزا پابندیوں کی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت امریکا کا اہم تزویراتی اور تجارتی شراکت دار ہونے کے باعث ان سفارشات پر عمل درآمد سیاسی طور پر مشکل ہوگا، تاہم کمیشن کی سفارشات ایک اہم پالیسی مؤقف کی نمائندگی کرتی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔

انہوں نے کہا، “اگر امریکا اپنے اتحادیوں اور دوست ممالک سے بھی مذہبی آزادی کا مطالبہ نہیں کر سکتا تو پھر وہ دنیا کے دیگر ممالک سے ایسا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے؟”
اس موقع پر اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیشنل ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے نیشنل سکیورٹی پروگرام کے ڈائریکٹر اور کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کے سابق افسر ڈینیل اسٹینٹن نے کینیڈا میں مبینہ غیر ملکی مداخلت اور سرحد پار جبر سے متعلق تجربات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے مقدمے سمیت متعدد معاملات میں قانونی اور سیاسی اقدامات کیے ہیں، تاہم جغرافیائی سیاست اور تجارتی مفادات حکومتی ردِعمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا جیسے درمیانے درجے کے ممالک کا اثر و رسوخ محدود ہے، اس لیے جمہوری ممالک کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
ہندوز فار ہیومن رائٹس کی سینئر ڈائریکٹر ریا چکرابرتی نے کہا کہ کانگریشنل بریفنگ میں ان الزامات کا جائزہ لیا گیا کہ بھارتی حکومت نے بیرونِ ملک اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے۔ ان کے مطابق امریکا اور کینیڈا میں سکھ، کشمیری، مسلمان، ہندو اور دیگر کارکنوں کو مبینہ طور پر دھمکیوں، نگرانی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ “ٹرانس نیشنل ریپریشن” کی باضابطہ قانونی تعریف کی جائے تاکہ وفاقی، ریاستی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے واقعات کی بہتر انداز میں نشاندہی اور تحقیقات کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ موجودہ امریکی قوانین، بشمول پابندیوں کے اختیارات اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کا احتساب کیا جائے جن پر ایسے اقدامات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، اور اس تناظر میں اسلحے کی فروخت کا بھی جائزہ لیا جائے۔
مذہبی رہنما ریورنڈ نیل کرسٹی، جو فیتھ بیونڈ ریلیجس نیشنلزم کے پرنسپل ہیں، نے مذہب کو تشدد یا سیاسی اختلاف رائے دبانے کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں یا سیاسی مخالفین کو اپنی سرحدوں سے باہر نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات انسانی حقوق، انسانی وقار اور دیگر ممالک کی خودمختاری کے منافی ہیں۔ انہوں نے تمام مذاہب کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کے خلاف متحد ہوں اور حکومتیں مذہبی اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

کانگریشنل بریفنگ کے اختتام پر مقررین نے سرحد پار جبر کے الزامات کا سامنا کرنے والی حکومتوں کے احتساب، تارکینِ وطن برادریوں کے بہتر تحفظ اور جمہوری ممالک کے درمیان مضبوط بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔
کینیڈا، امریکا اور پاکستان میں الزامات
قابلِ ذکر ہے کہ کینیڈا، امریکا اور پاکستان کے حکام مختلف مواقع پر ایسے افراد پر الزامات عائد کر چکے ہیں جنہیں ان کے بقول بھارتی حکومت یا اس کے انٹیلی جنس نظام سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔ بھارت نے متعدد مواقع پر ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ (New India Abroad)
کینیڈا میں سکھ رہنما اور کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجار کو 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گردوارے کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔ کینیڈین حکام نے مئی 2024 میں چار بھارتی شہریوں کو گرفتار کر کے ان پر قتل اور قتل کی سازش کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ مقدمات تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
امریکا میں وفاقی استغاثہ نے نیویارک میں سکھ رہنما اور امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کے مقدمے میں بھارتی شہری نکھل گپتا پر فردِ جرم عائد کی۔ امریکی حکام کے مطابق گپتا نے مبینہ طور پر بھارتی سرکاری اہلکار وکاش یادو کی ہدایات پر کارروائی کی، جن پر بھی قتل کی سازش اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی ایجنٹوں نے پاکستانی سرزمین پر ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں منظم کیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ان واقعات میں محمد ریاض، جو 8 ستمبر 2023 کو راولاکوٹ میں ایک مسجد کے اندر قتل ہوئے، اور شاہد لطیف، جو 11 اکتوبر 2023 کو سیالکوٹ میں ایک مسجد کے باہر قتل کیے گئے، شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی ایجنٹ یوگیش کمار اور اشوک کمار آنند نے بیرونِ ملک موجود رابطہ کاروں، مقامی سہولت کاروں اور کرائے کے حملہ آوروں کے ذریعے یہ کارروائیاں کرائیں۔ اسلام آباد نے انہیں مختلف ممالک میں پھیلے “مرڈر فار ہائر” نیٹ ورکس کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے

