ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ سے قبل جھڑپیں، سکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 اموات
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی عوامی تحریک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں-
لانگ مارچ کے آغاز سے ایک دن قبل منگل کو دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی۔
حکام کے مطابق رینجرز اور پولیس کا ایک، ایک اہلکار مارا گیا جبکہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 8 شہری گولیوں کا نشانہ بنے ہیں-
کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی نے دن دو بجے لانگ مارچ کے مظفر آباد کے لیے روانہ ہونے کا اعلان کر رکھا ہے-
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔
پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے منگل کی رات تصدیق کی کہ راولاکوٹ اور سدھنوتی کے مقام پر دو مختلف واقعات میں کالعدم تنظیم کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 10 اموات ہوئیں۔
کشمیر میں حکام نے بتایا کہ مرنے والوں میں 8 شہری، ایک رینجرز کا اہلکار اور ایک مقامی پولیس اہلکار شامل ہے-
سدھنوتی کی ضلعی انتظامیہ نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ 450 رینجرز اہلکار ایک قافلے کی شکل میں راولاکوٹ آ رہے تھے کہ بلوچ بیٹھک کے مقام پر کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے قافلے کا راستہ روک کر ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
ضلعی انتطامیہ نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے قافلے پر فائرنگ بھی کی اور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سات مظاہرین ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار کی بھی موت ہوئی۔
مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کا دوسرا واقعہ راولاکوٹ میں پیش آیا جہاں حکام کے مطابق مظاہرین کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن مارا گیا۔