تین کنال زمین کی ملکیت کا 18 برس بعد فیصلہ، مدعی کا سپریم کورٹ میں انتقال
خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہری عمر علی 18 برس بعد زمین کے تنازع کا مقدمہ جیت کر خوشی سے زندگی کی بازی ہار گئے۔
سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر تین کے سامنے بٹگرام کے عمر رسیدہ شہری عمر علی کو مقدمہ جیتنے کی خوشی میں دل کا دورہ پڑا۔
وکیل ثنااللہ زاہد کے مطابق عمر علی نے سنہ 2003 میں بٹگرام میں تین کنال اراضی خریدی تو ہمسائیوں نے مقدمہ کر دیا۔
عمر علی ماتحت عدالت سے عدالت عالیہ تک پہنچا لیکن ہائیکورٹ نے بھی اس کے خلاف فیصلہ دیا۔
2017 میں عمر علی نے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جس کی پانچ سال بعد پہلی سماعت پر ہی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دلائل سننے کے بعد عمر علی کی اپیل منظور کر لی اور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔
فیصلہ سننے کے بعد عمر علی عدالت کے باہر گر گئے اور اُن کو ایمبولینس میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کی۔

