سات سینیئر ججز کو شامل کروں یا نہ کروں یہ میری مرضی ہے: چیف جسٹس
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سیاست دان عدالت سے انصاف نہیں فیورٹ ازم چاہتے ہیں۔
منگل کو عدالتی اصلاحات بل کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سات سینیئر ججز کو بینچ میں شامل کرنا اور فل کورٹ بنانا یا نہ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔
چیف جسٹس نے سیاست دانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے اور انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے نکالنے کی استدعا پر چیف جسٹس نے کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں، کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کو کام کرنے سے نہیں روک سکتا.
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا.
چیف جسٹس نے کہا کہ شکایات ججز کے خلاف آتی رہتی ہیں، مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں.
چیف جسٹس کے مطابق سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے.
مسلم لیگ ن کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین، پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کیا.
پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا عدالت میں پیش ہوئے.
وکیل طارق رحیم نے کہا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ حکمنامہ عبوری نوعیت کا تھا،جمہوریت آئین کے اہم خدوخال میں سے ہے، آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خدوخال میں سے ہیں.
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کا یہ جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے، عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے.

