پاکستان

انڈیا سے سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

مئی 5, 2023

انڈیا سے سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.

جمعے کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے بعد انڈین شہر گوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ’اس اجلاس میں جتنے بھی وزرائے خارجہ آئے ان کے ساتھ الگ الگ ملاقات کا موقع ملا۔‘

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے اس کے لیے کوششیں کیں۔‘

’لیکن اب جو نئی صورتحال ہے۔ پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے کشمیر کے حوالے سے جو یکطرفہ فیصلہ کیا، دوطرفہ تعلقات کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف وزری کی ہے۔‘

’انڈیا کے اس اقدام نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہت متاثر کیا ہے۔ اس ایک اقدام سے انہوں نے اپنی بین الاقوامی کمٹمنٹس کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

انہوں نے انڈین وزیر خارجہ کی جانب سے مصافحہ نہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’مجھے ہاتھ ملانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر انہیں کوئی مسئلہ ہو تو ان سے پوچھیں۔ وہ جس انداز میں ملے ہیں، ہم اپنے سندھ میں اور ملتان میں بھی ایسے ہیں ملتے رہتے ہیں۔ وہ سب کے ساتھ اسی انداز میں ملے ہیں۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو سامنے آنے والی ویڈیو میں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر دونوں ہاتھ ملا کر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو آداب کہتے ہیں اور بلاول بھی اسی انداز میں ان کا جواب دینے کے بعد تصویر کھنچواتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرادری نے کہا کہ ’شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے جو ذمہ داریاں تھیں۔ ایس جے شنکر نے انہیں بخوبی نبھایا ہے۔ انہوں نے مجھے کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ اس ایونٹ پر ہمارے دوطرفہ تعلقات کی نوعیت کا کوئی اثر ہے۔‘

سفارتی تعلقات کے متعلق سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہمارے سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’انڈیا کو کشمیر کے حوالے سے رویہ رعونت پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے دوطرفہ تعلقات، بین الاقوامی معائدوں کو نظرانداز کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم دہشت گردی کا مقابلہ اس لیے نہیں کرنا چاہتے کہ یہ انڈیا کا یا کسی اور ملک کا مطالبہ ہے۔ ہم اس کا مقابلہ اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ ہم براہ راست اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ بیان بازی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے پاکستان کے وزیرخارجہ کے طور پر کوشش کی ہے کہ ملک کی اندرونی سیاست ہماری سرحدوں کے اندر رہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے