عمران خان گرفتار مگر وزیر داخلہ دوسرے ملزم کا نام لینے کی ہمت نہ کر سکے
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس کی اور اُس میں چار پانچ بار دلال اور دلہ کے الفاظ استعمال کیے۔
منگل کی شام پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد اُن کے خلاف نیب میں جاری انکوائری اور مقدمے کی تفصیلات بتائیں تاہم وہ اس دوران دیگر ملزمان میں شامل مشہور شخصیت نام نہ لے سکے۔
انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کا نام نہیں لیا اور اُن کو بار بار پراپرٹی ٹائیکون کہتے رہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ شہزاد اکبر نے القادر یونیورسٹی کے لیے ملک ریاض سے زمین بشریٰ بی بی اور عمران خان کے ملکیتی ٹرسٹ کے نام کرتے ہوئے دو ارب روپے کمائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چھ سات ارب کی کرپشن ہے۔

