عوامی ردعمل بہت سے عوامل سے جُڑا ہے: پی ٹی آئی کا فوج کو سخت جواب
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے اعلامیے پر پاکستان تحریک انصاف نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حقائق سے متصادم قرار دیا ہے۔
پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افواجِ پاکستان کا اعلامیہ زمینی صورتحال کے ناقص ادراک پر مبنی ہے۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ اعلامیہ وفاقِ پاکستان کی سب سے معتبر، مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کے خلاف نفرت و انتقام پر مبنی بیانیے کا افسوسناک مجموعہ ہے۔
مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق تحریک انصاف اپنی ساخت، نظریے اور منشور کے اعتبار سے ایک جمہوری جماعت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تحریک انصاف پرامن، غیرمتشدد اور آئین و قانون پر کاربند رہتےہوئے مقاصد کےحصول پر یقین رکھتی ہے۔
پی ٹی آئی کا فوج کو جواب:
اپنے قیام سے لے کر آج تک تحریک انصاف، اس کے چیئرمین عمران خان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ہدف بنایا ہے۔
عوامِ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کا تحفظ ہی ہمارا مقصدِ نگاہ ہے۔
تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین و قانون سے انحراف کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
تحریک انصاف نے مارشل لاء کے ذریعے دستور کو کُلّی یا جزوی طور پر معطل کرنے کی مزاحمت کی ہے۔
ہم دھاندلی و انتخابات میں مداخلت کے ذریعے عوام کے حقِ حاکمیت پر ڈاکے کے بھی شدید مخالف رہے ہیں۔
پرامن اور صبر آزما سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے کہ تحریک انصاف لاکھوں اراکین، کروڑوں ووٹرز کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا سیاسی ادارہ ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف کے سیاسی نظریے اور فلسفے کو عوام میں غیرمعمولی تائید و نصرت میسر آئی۔
تحریک انصاف نے ایک نشست سے لے کر مرکز، پنجاب، پختونخوا، آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا سفر ارتقاء سے مکمل کیا۔
آج تحریک انصاف الحمدللہ بلاشرکتِ غیرے پاکستان کی واحد معتبر سیاسی جماعت ہے۔
9 مئی کو چیئرمین تحریک انصاف کے ہائیکورٹ سےنیم فوجی دستوں کے ذریعے اغواء کے بعد کا عوامی ردعمل بہت سے عوامل سے جڑا ہے۔
چیئرمین عمران خان گزشتہ تیرہ ماہ سے مسلسل ان عوامل کی نشاندہی کرتے آئے ہیں۔
ان تیرہ مہینوں کے دوران آئین سے بدترین انحراف اور شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے عوام میں تلخی کو جنم دیا۔
ریاستی اداروں کے مابین طاقت کے توازن میں شدید بگاڑ، ماورائے قانون اقدامات اور معیشت کی تباہی نے بھی تلخی پیدا کی۔
ملک کی سب سے بڑی جماعت اور اس کی قیادت کو کچلنے کی ناروا کوششوں نے بھی عوام میں اس تلخی کو جنم دیا جسے ریاست نظرانداز کرتی آئی۔

