گرفتاری غیرقانونی، سپریم کورٹ کا عمران خان کو رہا کرنے کا حکم
پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئےفوری رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے.
چیف جسٹس نے عمران خان کا استقبال کرتےہوئے کہا کہ آپ نے کہا آپ امن چاہتے ہیں، املاک کا نقصان نہیں چاہتے، آپ کی بات سن کر یقین ہوا کہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں.
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ مذاکرات کا آغاز کریں، معاشرے میں امن قائم ہوگا، یہ اچھی بات ہے، آپ عوام کے حقوق کے امین ہیں.
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ملک میں آپ کی گرفتاری کے بعد تشدد کے واقعات ہورہے ہیں،ہم ملک میں امن چاہتے ہیں، سپریم کورٹ ہر شہری کو قانونی حق دے گی.
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر سیاست دان کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان یقینی بنائے، یہ بات کی جارہی ہے کہ اپ کے کارکنان غصے میں باھر نکلے،ہم اپ کو سننا چاھتے ہیں بتائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ 9 مئی کو کورٹ میں بائیو میٹرک روم میں موجود تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب ایک شخص عدالت آتا ہے تو اس کا مطلب وہ کورٹ کے سامنے سرنڈر کرتا ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی تھی، عمران خان کی گرفتاری کو ہم واپس کررہے ہیں،
عمران خان روسٹر پر آئے.
عمران خان نے کہا کہ مجھے ہائیکورٹ سے اغوا کیا گیا، مجھے ڈندے مارے گئے۔ ایسا تو کسی ایک نارمل کرمنل کے ساتھ بھی کیا جاتا۔ اس کے بعد مجھے کچھ علم نہیں کیا ہوا، ابھی تک مجھے نہیں پتہ کیا ہوا۔مجھے کبھی پولیس لائین اور کبھی کہیں لے کر پھرتے رہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آیاکہ ہوا کیا ہے؟
عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو وارنٹ دکھا دیں. مجھے کمانڈو ایکشن کر کے سر پر ڈنڈے مارے گئے،کرمنل کیطرح مجھے پکڑا گیا،جو میرے ساتھ ہوا اس کا ری ایکشن تو آئے گا.
عمران خان نے کہا کہ ان پر دہشت گردی سمیت کئی مقدمات درج ہیں.
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میڈیا موجود ہے احتیاط سے بات کریں.

