لاہور کے بعد گوجرانوالہ کی عدالت کا بھی پرویز الہیٰ کو تمام مقدمات میں بری کرنے کا حُکم
گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب و پاکستان تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر کے مقدمات سے ڈسچارج کیا ہے.
سنیچر کی شام گوجرانوالہ کے ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ محمد افضل نے محفوظ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے پرویز الٰہی کو دونوں مقدمات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
گزشتہ روز لاہور کی اینٹی کرپشن کورٹ نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے بری کردیا تھا جس پر انہیں گوجرانوالہ میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ادھر پنجاب کے وزیر اطلاعات عامر میر نے پرویز الہی کے وکیل کے جواب میں کہا ہے کہ رانا انتظار فیصلہ کریں کہ وہ پرویز الہی کے وکیل ہیں یا ہائیکورٹ بار کے صدر؟ وکلاء برادری کا نمائندہ کس منہ سے کرپشن کنگ کا دفاع کر رہا ہے۔
عامر میرنے کہا کہ رانا انتظار چند ٹکوں کے لیے پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کے وکیل بن گے۔
عامر میرکا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود پرویز الہی کو سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کا پرویز الہی کو ڈسچارج کرنے کا فیصلہ سراسر مذاق تھا۔
عامر میرکے مطابق جج نے دلائل سنے بغیر ہی پرویز الہی کو ڈسچارج کر دیا۔
عامر میرنے کہا کہ جج غلام مرتضی ورک کا فیس بک پیج پی ٹی آئی کی حمایت میں بھرا پڑا تھا۔ میں نے ٹویٹ کر کے بتایا تو موصوف نے فوراً پیج ڈیلیٹ کردیا۔
عامر میر نے کہا کہ دوبارہ جج کے فیس بک پیج کے سکرین شارٹس شیئر کر رہا ہوں۔
عامر میر کے مطابق پرویز الہٰی کو میرٹ کی بجائے یوتھیا کنکشن پر ڈسچارج کیا گیا، انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے اپنا منہ کالا نہ کریں۔
عامر میر نے کہا کہ سیاسی ورکرز بھی وکیل کے روپ میں بار کا پلیٹ فارم استعمال نہ کریں۔ ڈاکو کا دفاع کرنا ہے تو بار کے عہدے سے استعفی دیں۔

