قتل کے مقدمے کا اخراج، بلوچستان ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست مسترد
بلوچستان ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست خارج کر دی ہے۔
سابق وزیراعظم نے یہ درخواست ایف آئی آر نمبر 44/2023ختم کرانے کے لئے دائر کی تھی جوعبدالرزاق شر ایڈووکیٹ کے قتل پر ان کے خلاف مقتول کے بیٹے سراج احمد ایڈووکیٹ کی جانب سے درج کروائی گئی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اخترافغان اور جناب جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکم جاری کر تے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر44/2023 کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے جبکہ وقوعہ کے مختلف پہلوؤں کی تفشیش جے آئی ٹی یا تفشیشی آفسر کی جانب سے ہونا باقی ہے اس مرحلے پرتفشیش کے عمل کو نہیں روکا جاسکتا۔
درخواست گزار سابق وزیراعظم کے وکیل کے مطابق عمران خان مذکورہ ایف آئی آر میں پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے 19 جون2023 تک حفاظتی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
درخواست میں ان کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ تعزیرات ہاکستان کی دفعات34 ,109,302 جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کی دفعات 6 اور 7 کے ساتھ پڑھا جائے کے تحت درج کی گئی۔
مذکورہ ایف آئی آر غیرقانونی ہے اور جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس ایف آئی آر و تفشیش پر عمل درآمد اور انسداد دہشت گردی کورٹ کوئٹہ کی جانب سے جاری کیا گیا وارنٹ معطل کردیا جائے۔
معزز عدالت کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ تفتیش کا عمل اگر چہ شروع کر دیا گیا ہے تاہم ان کے موکل کو تا حال شامل تفتیش نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ ایف آئی آر 44/2023کے اندارج سے قبل مقتول عبدالرزاق شر کی جانب سے دائر کیے گئے کیسCPNO563/2023
سے آگاہ تھے۔
مذکورہ ایف آئی آر مورخہ 6 جون 2023کو مقتول کے بیٹے سراج احمد ایڈوکیٹ کی جانب سے درج کروائی گئی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جیسا کہ صغراں بی بی بخلاف ریاست (PLD2018SC595)کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم موجود ہے اور یہ عدالت آئین کے آرٹیکل199 کے تحت آئینی دائرہ اختیار یا سیکشنCR.PC56/A کے تحت موروثی اختیار کا استعمال کر کے جاری تحقیقات کا عمل نہیں روک سکتی لہذا ان وجوہات کی بنا پر مذکورہ بالا درخواست ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کی جاتی ہے۔

